بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

پہلے حملہ پھر جنگ کے اخراجات کی وصولی، امریکہ نے افغانستان کو لوٹ لیا، ایک ٹریلین ڈالر مزید وصول کرنے کا منصوبہ، چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر

datetime 6  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کمپنوں کا افغانستان میں موجود ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی معدنیات نکالنے کا منصوبہ۔ تفصیلات کے مطابق ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ آج سے تقریباً 8 سال پہلے افغانستان کے معدنی ذخائر کی تمام تفصیلات حاصل کر چکا ہے اور اب تک وہ افغانستان سے 500 ملین ڈالر کے معدنی ذخائر لے جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے دوست راس کی قیادت میں افغانستان کی معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مینجمنٹ کمیٹی بنائی گئی ہے

اور اس نے افغانستان کے حکام کو کہا ہے کہ امریکہ کی 30 کمپنیوں کو معدنیات کے ذخائر تک براہ راست رسائی دی جائے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا ہے کہ امریکہ نے افغان جنگ پر جتنا خرچا کیا ہے وہ افغان حکومت نے واپس کرنا ہے اس لیے افغانستان ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنیات کے ذخائر تک براہ راست رسائی دے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ جنگ کے اخراجات برداشت کر سکے اس لیے یہاں موجود معدنی ذخائر جن میں کاپر، ORE اور دیگر ارتھ میٹریل شامل ہیں امریکہ کی تحویل میں دے اور اس دوران افغانستان کے عوام کو یہاں روزگار بھی دیا جائے گا جس سے یہاں کی عوام کے حالات بہتر ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے منصوبے کی جو تفصیلات افغان حکام کو دی گئی ہیں، ان میں جواہرات میں استعمال ہونے والے قیمتی پتھروں میں امریکہ کی طرف سے کوئی دلچسپی نہیں لی گئی لیکن جنوبی، مشرقی اور وسطی افغانستان میں پائی جانے والی وہ دھاتیں جو ایٹمی ہتھیاروں، میزائل ٹیکنالوجی، سپیس ٹیکنالوجی اور موبائل ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں، امریکہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے 2006-07ء میں جیولوجیکل سروے کرایا گیاتھا

جس افغانستان میں ٹریلین ڈالرز مالیت کے معدنی ذخائر کا پتہ چلا تھا، امریکی حکومت نے اس سروے سے مطمئن نہ ہونے پر 2009ء میں یو ایس ایڈ ماہرین کی مدد سے افغاستان کا سروے کروایا۔ اس سروے کے بعد امریکی کمپنیوں نے 2014ء میں مشرقی افغانستان کے صوبہ کنڑ سے 500 ملین ڈالر کی معدنیات امریکی فوج کی نگرانی میں نکالیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی دیوالیہ کے قریب ہونے والی 30 کمپنیوں کو بنک ڈیفالٹر سے بچانے کے لیے امریکی صدر نے ان کمپنیوں کے مالکان کے مشورے پر افغانستان میں معدنیات سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اسی وجہ سے امریکی فوجہ کو غیر معینہ مدت تک ابھی افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…