جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

اہرام مصر کی تعمیر کی پیچیدہ ترین گتھی حل؟ ماہرین آثار قدیمہ نے نئی تحقیق میں بڑا دعویٰ کردیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

قاہرہ(آئی این پی )آثار قدیمہ کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اہرام مصر کی تعمیر کی پیچیدہ ترین گتھیوں میں سے ایک کا جواب ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،وہ سوال تھا کہ قدیم دور میں مصریوں نے اہرام مصر تعمیر کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد وزنی چونا پتھر کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔نئی تحقیق کے مطابق قاہرہ شہر سے باہر ایسا کرنے کے لیے

مصریوں نے خاص اس مقصد کے لیے کشتیاں تیار کی تھیں جس کی مدد سے ان پتھروں کو ڈھویا جاتا تھا۔اس نئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چار ہزار قبل، 2550 قبل مسیح میں تعمیر کیے جانے والا کنگ خوفو کا اہرام کیسے تعمیر کیا گیا تھا۔ماہرین کو ایک عرصے سے اس بات کی آگاہی تھی کہ اہرام کی تعمیر میں استعمال ہونے والے کچھ پتھر گیزا سے آٹھ میل دور تورا کے مقام سے نکالے جاتے تھے جبکہ گرنائیٹ کا پتھر 500 میل دور سے لایا جاتا تھا لیکن اس بات پر محقیقن میں اتفاق نہیں تھا کہ وہ پتھر لاتے کیسے تھے۔لیکن برطانیہ کے چینل فور پر اہرام مصر پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے چار سال قبل پاپیریس کا مخطوطہ، ایک کشتی کا ڈھانچہ اور پانی کی گزر گاہ کی اہرام کے پاس سے دریافت کی، جس سے یہ سمجھنے کے لیے نئی معلومات ملیں کہ مصریوں نے کس طرح اہرام مصر تعمیر کیے تھے۔ماہر آثار قدیمہ پیئر ٹیل جنھوں نے گذشتہ چار سال اس پاپیریس کے مخطوطے کو سمجھنے میں صرف کیے، بتاتے ہیں کہ ‘یہ مخطوطہ غالبا دنیا کا سب سے پرانا مخطوطہ ہے۔پیئر ٹیل کے مطابق اسے لکھنے والے شخص کا نام میریر تھا اور وہ 40 ملاحوں کے گروہ کا سربراہ تھا جن کا

کام دریائے نیل کے ساتھ بنائی گئی پانی کی گزر گاہوں سے پتھر ڈھو کر لائے جائیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ دو دہائی کے عرصے میں تقریبا 23 لاکھ پتھر اس طرح سے اہرام کے مقام تعمیر پر لائے گئے تھے۔30 سال سے مصر میں کھدائی اور تحقیق کے ماہر مارک لہنر کا کہنا ہے کہ ‘ہم نے اس علاقے اور گذرگاہ کی نشاندہی کر لی ہے جہاں سے پتھر گیزا کے میدان پر لائے جاتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…