منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک کے 2حصے، عوام نے فیصلہ سنا دیا،ایران کے شدید تحفظات ،ترکی نے فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی دیدی

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

بغداد (آئی این پی )عراقی کردستان میں ریفرنڈم مکمل ہوگیا،76 فیصد کردوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا،دوسری جانب ایران اور ترکی نے بھی ریفرنڈم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان میں آزادی ریفرنڈم کے لیے پولنگ پیر کو ہوئی جس میں 53 لاکھ رجسٹر ووٹرز نے حصہ لیا۔ غیر حتمی نتائج میں 76 فی صد کردوںنے عراق سے آزادی حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

.غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم نے ثابت کردیا کہ کرد عراق کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔بغداد حکومت کی مخالفت کے باجود ریفرنڈم کرانے پر عراقی پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے کردوں کے زیر قبضہ متنازعہ علاقوں میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کر دیا۔ادھر ترکیاور ایران نے بھی ریفرنڈم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ترک صدر نے کردستان سے ترکی کے راستے تیل کی برآمد پر پابندی کی دھمکی دی ہے جبکہ ایران نے عراقی کردستان کے ساتھ فضائی رابطہ عارضی طور پر منقطع کر دیا ہے۔دریں اثنا ترک صدر رجب طیب اردگان نے عراقی ریاست کردستان کی آزادی کی صورت میں فوجی کارروائی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی ریاست کردستان میں علیحدگی کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں فوجی مداخلت سے گریز نہیں کریں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے عراقی ریاست کردستان میں ہونے والے ریفرنڈم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استصواب رائے کو خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ عراقی ریاست کردستان میں علیحدگی کی تحریک کامیاب ہونے  کی صورت میں فوجی مداخلت سے گریز نہیں کریں گے۔

طیب اردگان کا کہنا تھا کہ عراقی سرحد پرترک فوجی بغیر کسی مقصد کے موجود نہیں بلکہ ہم اچانک کسی بھی وقت کارروائی کرسکتے ہیں، ترک فوجی پوری طرح تیار ہیں، ملکی سلامتی و خودمختاری کو درپیش خطرات کے پیش نظر اہم اقدامات کیے جائیں گے جس میں عراق سے ملحقہ سرحد کو بند کرکے کسی بھی نقل و حمل کو روکنا سرفہرست ہے۔گزشتہ روز عراقی خودمختار ریاست کردستان میں آزاد کرد ریاست سے متعلق ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا جس میں 76فیصد کردوں نے علیحدہ ریاست کے حق میں رائے دی۔واضح رہے کہ عراقی ریاست کردستان میں ترکی سے ملحقہ سرحد پر 15سے20فیصد کرد آباد ہیں جو اپنی آزاد ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کافی عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ترکی کا ماننا ہے کہ خطے سمیت انقرہ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں کرد مسلح جنگجووں کا ہاتھ ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…