جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

آدم خور میاں بیوی نے 30افرادکو زندہ کاٹ کر کھا لیا انسانوں کو مارنے کے بعد انکے ساتھ پہلا کام کیا کرتے؟ گوشت کہاں کہاں رکھتے تھے؟خوفناک انکشاف

datetime 26  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) روس میں ایک آدم خور جوڑے کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے کم ازکم 30 افراد کو زندہ مار کر کھا لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے گھر میں تمام مرنے والے 30 افراد کے اعضا جمع کرنے اور ان کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔روسی پولیس نے آدم خور خاندان کے گھر سے 8 بڑے انسانی اعضا دریافت کرنے کی بھی تصدیق کر دی ہے  مزید شواہد اکٹھے کرنے  کے لیے گھر کی تلاشی لی جارہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس خونی واقعے کے مرکزی ملزم 35 سالہ دمیتری بکشیو ہیں جس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پچھلے 18 سالوں  سے انسانوں کو مار کر کھا رہا ہے۔ یہ خاندان جنوبی روس کے علاقے کراسنوڈر میں مقیم تھا اور اس شخص کی بیوی 42 سالہ نتالیہ ایک نرس ہیں جو خود اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔پولیس نے جب  گھر کی تلاشی لی تو بعض تصاویر اور ’آدم خوری کے اسباق‘ سکھانے والی ویڈیوز بھی برآمد کی ہیں۔ نتالیہ کو گرفتار کر کے فوری طور پر اس کا نفسیاتی تجزیہ کرایا گیا تو انکشاف ہوا کہ آدم خور ذہنی اور نفسیاتی طور پر مکمل صحت مند ہے۔دمیتری بکشیو اور اس کی بیگم نے فریج اور فریزر کے علاوہ برتنوں اور مرتبانوں میں انسانی گوشت بھی جمع کر رکھا تھا۔ فریج سے انسانی اعضا کی 7 تھیلیاں بھی ملیں جن میں منجمند گوشت موجود ہے۔ اس کے علاوہ گھر سے مرنے والوں کی جلد کے 19 بڑے ٹکڑے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ معمولی دباؤ پر آدم خور جوڑے نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔حکام کے مطابق اس جوڑے کے گھر میں سب سے پہلے 12 ستمبر کو  تہہ خانے سے خاتون کے اعضا برآمد ہوئے تھے جو ایک بالٹی اور شاپنگ بیگ میں موجود تھے جبکہ دوسرے بیگ میں خاتون کی دیگر اشیا رکھی تھیں۔

ایک خاتون کے سر کے ساتھ تصاویر بھی ملی ہیں۔ اسی طرح ان کے گھر کے پاس کام کرنے والے مزدوروں کو ایک موبائل فون ملا جس میں اس شخص کی انسانی اعضا کے ساتھ سیلفی لی گئی تھی۔ اسی طرح 28 دسمبر 1999 کو لی گئی ایک تصویر میں انسانی سر ایک پلیٹ پر رکھا ہے اور اطراف میں نارنگیاں دھری ہوئی ہیں۔ آدم خور جوڑے نے اعتراف م کیا ہے کہ 1999 سےلوگوں کو شکار کر رہا ہے۔مارنے سے پہلے لوگوں کو کوروالول نامی دوا پلا کر بے ہوش کیا جاتا تھا تاکہ انہیں کھانے میں آسانی ہو۔پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے واقعے کی مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے ۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و  ہراس پایا جاتا ہے ۔مرنے والے کون افراد تھے ان کی شناخت  سامنے نہیں آسکی اور نہ ہی ان کے لواحقین سامنے آسکے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…