پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

جرمن میڈیا نے میرکل کی فتح کو مایوس کْن قراردیدیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2017 |

برلن(این این آئی)جرمن میڈیا نے چوتھی مرتبہ کامیاب ہونیوالی چانسلر انجیلا میرکل کی فتح کو مایوس کن قراردیتے ہوئے کہاہے کہ میرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیمو کریٹک یونین کو 1949 ء کے بعد سے اب تک کے بد ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑا یعنی سی ڈی یو اور اس کی سسٹر یا ہم خیال پارٹی سی ایس یو کو تینتیس عشاریہ سے کچھ زائد فیصد ووٹ ملے۔جرمن ریڈیو

کے مطابق سی ڈی یو اور سی ایس یو نے ڈرامائی حد تک ووٹوں کا نقصان اْٹھایا ہے۔ ایف ڈی پی ایک بار پھر پارلیمان تک پہنچ گئی اور اے ایف ڈی تیسری طاقتور سیاسی جماعت ثابت ہوئی ہے۔میرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیمو کریٹک یونین کو 1949 ء کے بعد سے اب تک کے بد ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑا یعنی سی ڈی یو اور اس کی سسٹر یا ہم خیال پارٹی سی ایس یو کو تینتیس عشاریہ سے کچھ زائد فیصد ووٹ ملے۔ غیر سرکاری نتائج کے سامنے آنے کے بعد انگیلا میرکل نے اپنے بیان میں کہاکہ ہمارے خلاف کوئی بھی پارٹی حکومت نہیں بنا سکتی۔ میرکل کا یہ بیان کافی حد تک بیباک تھا۔اس بار کے انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کو ملنے والے ووٹوں میں ڈرامائی کمی نے میرکل کی پارٹی کے لیے آئندہ حکومت سازی میں سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے امکانات کو خارج کر دیا۔ ابتدائی نتائج اور جائزوں کے سامنے آتے ہی ایس پی ڈی کے چوٹی کے لیڈروں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ ایک وسیع مخلوط حکومت کو اب خیر باد کہہ رہے ہیں۔مجموعی طور پر کرسچین ڈیمو کریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے 14 فیصد ووٹوں کا نقصان اْٹھایا ہے۔ گرچہ گزشتہ الیکشن کے مقابلے میں اس

بار ووٹرز کا ٹرن آؤٹ زیادہ تھا۔ اس بار ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح 75 فیصد رہی۔ یہ انتخابی حلقوں اور ووٹرز کی طرف سے ان دونوں مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…