پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا تیسری عالمی جنگ کے دھانے پر،امریکہ اور روس آمنے سامنے، روس نے حملے کا اعلان کردیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

ماسکو (این این آئی)روس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر شام میں اس کی خصوصی فورسز اور اس کی حمایت یافتہ کرد عرب ملیشیا نے اپنے زیر قبضہ علاقوں سے روسی فورسز پر حملہ کیا تو پھر جواب میں انھیں بھی فوری حملوں میں نشانہ بنایا جائے گا۔روس کرد اور عرب ملیشیاؤں پر مشتمل اتحاد شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف ) کا حوالہ دے رہا تھا۔امریکا کی قیادت میں

داعش مخالف اتحاد ان فورسز کی حمایت کررہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے کہاکہ اس اتحاد نے داعش کے گڑھ الرقہ پر کنٹرول کے لیے لڑائی کا رْخ اب دیر الزور کی جانب موڑ دیا ہے جہاں روس کے خصوصی دستے شامی فوج کی داعش کے خلاف لڑائی میں مدد دے رہے ہیں۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ایس ڈی ایف نے دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں امریکی خصوصی فورسز کے ساتھ پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔انھوں نے مارٹروں اور توپ خانے سے شامی فوجیوں کی جانب دو مرتبہ فائرنگ کی ہے۔روسی فوج کے میجر جنرل آئیگور کوناشینکو ف نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ العدید (قطر میں امریکی آپریشنز سنٹر) میں امریکی فوجی کمان کے نمائندے کو دوٹوک الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ ایس ڈی ایف کے جنگجو جن علاقوں میں موجود ہیں، اگروہاں سے روسی اور شامی دستوں پر فائرنگ کی کوشش کی گئی تو انھیں تما م فوجی ذرائع سے خاموش کرادیا جائے گا۔روس کا یہ سخت انتباہ شام میں جاری جنگ کے معاملے پر ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان پائی جانے والی سخت کشیدگی کا بھی غماز ہے۔دونوں ممالک اپنی اپنی گماشتہ فورسز کے ذریعے شام میں داعش کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ تزویراتی اثرورسوخ اور تیل کے کنووں کی صورت میں مادی وسائل پر قبضے

کے لیے بھی کوشاں ہیں۔شام کے مشرقی قصبے دیر الزور میں داعش بیک وقت ایک جانب ایس ڈی ایف سے نبرد آزما ہیں اور دوسری جانب شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ ایس ڈی ایف کو امریکی اتحادیوں کی فضائی مدد حاصل ہے اور روسی لڑاکا طیارے شامی فوج کی حمایت میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…