پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

شوہرکی فوت ہو نے والی بیوی سے مباشرت حلال ہے،مصری مفتی کا فتویٰ

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

قاہرہ (این این آئی)مصر میں جامعہ ازہر کے ایک عالم کی جانب سے جاری انوکھے اور غیر مانوس نوعیت کے فتوے نے ملک میں وسیع پیمانے پر تنازع اور عوامی حلقوں میں شدید غصے کی لہر پیدا کر دی ۔کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب مصری اخبار نے جامعہ ازہر میں تقابلِ فقہ کے پروفیسر ڈاکٹر صبری عبدالرؤوف سے ایک متنازع فتوی منسوب کیا جس میں مذکورہ اسکالر کا کہنا

تھا کہ شوہر کی اپنی فوت ہو جانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت یا ازدواجی تعلق حلال ہے اور اس کو زنا شمار نہیں کیا جائے گا۔ ایسے شخص پر کوئی حد یا سزا جاری نہیں ہو گی کیوں کہ شرعی طور پر یہ عمل حرام نہیں ہے اور فوت ہونے والی عورت واقعتا اس کی بیوی ہے۔ البتہ مذکورہ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صبری کا کہنا تھا کہ یہ عمل معاشرتی طور پر پسندیدہ نہیں ہے۔اس فتوے نے مصر میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کر دی اور جامعہ ازہر اور اوقاف کے علماء اس کا جواب دینے اور اس کو حرام قرار دینے کے لیے میدان میں آ گئے۔مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ کا کہناتھا کہ ماضی میں بھی ایسے فتوے جاری کیے جا چکے ہیں جن پر ان کے شدید غم و غصے کے جذبات پیدا ہوئے۔ وزیر اوقاف نے حالیہ فتوے کو آفت نما شے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دین اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف ایک جرم ہے اور جو کوئی بھی ایسی گھناؤنی حرکت کرے گا وہ انسانوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ادھر جامعہ ازہر نے متنازع فتوی جاری کرنے والے اسکالر کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا۔ جامعہ ازہر کے نائب سربراہ ڈاکٹر احمد حسنی نے بتایا کہ جامعہ کی طرف سے ڈاکٹر صبری عبدالرؤوف کو تحقیقات کے لیے بلایا

جائے گا تا کہ ان سے معلوم کیا جا سکے کہ اس فتوے میں انہوں نے کون سی شرعی دلیل کو بنیاد بنایا ہے۔دوسری جانب صاحبِ فتوی نے اس متنازع رائے سے اپنی براء ت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق انہوں نے ایسی بات نہیں کہی اور ان کی بات کو سیاق سے قطع کر کے شائع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق وہ تو ایک صحافی کے سوال کا جواب دے رہے تھے جو اس

حوالے سے پوچھا گیا تھا کہ ایک عرب عالم نے فتوی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس عمل کو جائز قرار دیا۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق یہ عمل شرعا حرام ہے تاہم وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اخبار کے حوالے سے یہ فتوی سوشل میڈیا پر ان سے منسوب کر کے پھیلایا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…