جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

شوہرکی فوت ہو نے والی بیوی سے مباشرت حلال ہے،مصری مفتی کا فتویٰ

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

قاہرہ (این این آئی)مصر میں جامعہ ازہر کے ایک عالم کی جانب سے جاری انوکھے اور غیر مانوس نوعیت کے فتوے نے ملک میں وسیع پیمانے پر تنازع اور عوامی حلقوں میں شدید غصے کی لہر پیدا کر دی ۔کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب مصری اخبار نے جامعہ ازہر میں تقابلِ فقہ کے پروفیسر ڈاکٹر صبری عبدالرؤوف سے ایک متنازع فتوی منسوب کیا جس میں مذکورہ اسکالر کا کہنا

تھا کہ شوہر کی اپنی فوت ہو جانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت یا ازدواجی تعلق حلال ہے اور اس کو زنا شمار نہیں کیا جائے گا۔ ایسے شخص پر کوئی حد یا سزا جاری نہیں ہو گی کیوں کہ شرعی طور پر یہ عمل حرام نہیں ہے اور فوت ہونے والی عورت واقعتا اس کی بیوی ہے۔ البتہ مذکورہ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صبری کا کہنا تھا کہ یہ عمل معاشرتی طور پر پسندیدہ نہیں ہے۔اس فتوے نے مصر میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کر دی اور جامعہ ازہر اور اوقاف کے علماء اس کا جواب دینے اور اس کو حرام قرار دینے کے لیے میدان میں آ گئے۔مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ کا کہناتھا کہ ماضی میں بھی ایسے فتوے جاری کیے جا چکے ہیں جن پر ان کے شدید غم و غصے کے جذبات پیدا ہوئے۔ وزیر اوقاف نے حالیہ فتوے کو آفت نما شے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دین اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف ایک جرم ہے اور جو کوئی بھی ایسی گھناؤنی حرکت کرے گا وہ انسانوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ادھر جامعہ ازہر نے متنازع فتوی جاری کرنے والے اسکالر کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا۔ جامعہ ازہر کے نائب سربراہ ڈاکٹر احمد حسنی نے بتایا کہ جامعہ کی طرف سے ڈاکٹر صبری عبدالرؤوف کو تحقیقات کے لیے بلایا

جائے گا تا کہ ان سے معلوم کیا جا سکے کہ اس فتوے میں انہوں نے کون سی شرعی دلیل کو بنیاد بنایا ہے۔دوسری جانب صاحبِ فتوی نے اس متنازع رائے سے اپنی براء ت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق انہوں نے ایسی بات نہیں کہی اور ان کی بات کو سیاق سے قطع کر کے شائع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق وہ تو ایک صحافی کے سوال کا جواب دے رہے تھے جو اس

حوالے سے پوچھا گیا تھا کہ ایک عرب عالم نے فتوی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس عمل کو جائز قرار دیا۔ ڈاکٹر صبری کے مطابق یہ عمل شرعا حرام ہے تاہم وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اخبار کے حوالے سے یہ فتوی سوشل میڈیا پر ان سے منسوب کر کے پھیلایا جا رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…