منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انصاف اور مساوات کی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،امام کعبہ

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی)نیویارک میں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان ثقافتی ابلاغ کے موضوع پر کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی،اس کااہتمام رابطہ عالم اسلامی نے کیا ہے اور اس میں دنیا کے 56 ممالک سے تعلق رکھنے والے 450 سے زیادہ دانشور ،سائنسدان اور ماہرین تعلیم شریک ہوئے۔عرب ٹی وی کے مطابق رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ

نے کانفرنس کے دوسرے روز اپنی تقریر میں کہا کہ امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان برسوں سے جاری امتیازی مہذب تعلقات نے تہذیبوں کے درمیان کشمکش‘‘ کی سنگین غلطی اجاگر کی تھی۔یہ نفرت اور نسل پرستی پر مبنی تھی اور اس سے خیالی رکاوٹیں کھڑی ہوگئی تھیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک اہم بات پر امن بقائے باہمی کی ضرورت کو سمجھنا ہے اور اس تفہیم کی روشنی میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے جس سے نہ صرف ہمارے باہمی مفادات کا تحفظ ہو بلکہ اس سے تمام انسانیت کو فائدہ پہنچے۔سماجی امن اور دانشورانہ سلامتی کو تحفظ ملے اور برائی کو شکست سے دوچار کیا جائے۔ڈاکٹر العیسیٰ کا کہنا تھا کہ ضمیر اور سوچ میں عدم توازن کی وجہ سے بڑے انسانی المیوں نے جنم لیا ہے ۔رابطہ عالم اسلامی عالمی انسانی مشن پر عمل پیرا ہے اور وہ پوری انسانیت کی خدمت اور باہمی مفاد کے لیے ابلاغ ، مفاہمت اور باہمی ربط وتعاون پر زور دیتی ہے۔عالمی کونسل برائے مذہبی قائدین کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر باوا جین نے اپنی تقریر میں کہا کہ اب دوسروں کو قبول کرنے اور ان کے احترام کے مرحلے سے آگے بڑھنے کی ضرورت

ہے۔جامعہ شاہ عبدالعزیز جدہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی تعلیمات کے پروفیسر عبداللہ بن بیاح نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کی اقدار امریکی آئین کے مطابق ہیں اور سعودی عرب اسلامی دنیا کی قیادت کے لیے درکارتمام انسانی اور مذہبی اقدار کا حامل ہے ۔کانفرنس میں امام کعبہ اور الحرمین الشریفین کی جنرل پریذیڈینسی کے صدر شیخ عبدالرحمان السدیس بھی شریک تھے۔ انھوں

نے اپنی تقریر میں بنی نوع انسان کے درمیان انصاف اور مساوات کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ابلاغ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زوردیا ۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان مکالمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے مشترکہ عوامی مقاصد پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔اس دوروزہ کانفرنس میں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور ابلاغ کے حوالے سے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ان موضوعات میں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان ثقافتی شراکت داری : حقیقت اور خواہشات ۔عالمی امن کے فروغ میں اسلام کا کردار ۔ امریکا میں مسلمان ، مطابقت اور شہریت ۔مذہبی آزادیوں کے اطلاق میں دانشورانہ رجحانات۔امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان ابلاغ ، اجتماعی تہذیبی اور انسانی اقدار۔امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان باہمی مکالمہ نمایاں ہیں۔کانفرنس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کیموضوع پر سب سے زیادہ اظہار خیال کیا گیا ہے اور اس میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ انتہا پسندی کی شرح اسلامی دنیا میں بہت تھوڑی ہے۔ تازہ تخمینے کے مطابق ہر دو لاکھ میں سے ایک شخص کی انتہا پسند کے طور پر شناخت کی گئی ہے اور یہ کم ترین شرح دانشورانہ اور عسکری سطح پر مہموں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…