جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام، برما کے آرمی چیف نے کیا شرمناک اعتراف کر لیا؟ تفصیلات جاری

datetime 7  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) برما کے آرمی چیف کا مسلمانوں کی نسل کشی پر کھل عام اعتراف، تفصیلات کے مطابق برما کے آرمی چیف نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو دوسری جنگ عظیم کا ادھورا مسئلہ قرار دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ برما کے علاقے روہنگیا میں آباد مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم اور ان کی نسل کشی پر برما کے آرمی چیف کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی کا کھل عام اعتراف کیا۔

برما کے آرمی چیف نے یہ شرمناک اور افسوسناک بیان دیتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام دوسری جنگ عظیم کا ادھورا مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ برما کے آرمی چیف کے اس بیان کے بعد روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں تیزی آ سکتی ہے۔ دریں اثناء دنیا بھر سے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں بیانات سامنے آ رہے ہیں، وہیں معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میانمار میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ براۂ مہربانی برما کے مسلمانوں کو بچا لیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ہم انسانوں کی نسل کشی کرنے والوں کو کیوں نہیں روک سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم دیکھ کر مجھے اپنے انسان ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے، ہمیں ظلم کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے۔ ایک طرف ڈاکٹر ذاکر نائیک نے برما کے مسلمانوں ڈھائے جانے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کیا تو دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ برما کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو کیس لڑنا چاہیے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے گھر جلانے پر پوری مسلمہ اُمہ نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اس کے علاوہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…