منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی اوربھارتی گلوکاروںکی ایک دوسرے کے ملکوں کے قومی ترانے گاکر مبارکباد ، وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

datetime 14  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد/نئی دہلی (آئی این پی ) پاکستانی اور بھارتی قومی ترانوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،امن کا ترانہ کے عنوان سے اس گانے میں پاکستان اوربھارتی گلوکاروں نے حصہ لیا ، گانے میں ان دونوں ملکوں کے قومی ترانے کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر گایا گیا ہے،بھارتی گلوکاروں کے گروپ واکس کورڈ نے پاکستانی ترانہ بغیر کسی دھن کے گایا اور کہا کہ یہ ترانہ ایمان، فخر، طاقت اور ترقی کے بارے میں ہے،ویڈیو کو فیس بک پر

468000 مرتبہ دیکھا گیا۔فیس بک پر امن پسند گروپ وائس آف رام نے اسے جاری کیا ہے اور سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس کاوش کی تعریف کی ہے۔گانے کی ویڈیو کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: جب ہم اپنے سرحدیں فن کے لیے کھول دیتے ہیں تو امن خود بخود آجاتا ہے۔اس کے بعد کئی گلوکاروں نے سٹوڈیو اور مختلف جگہوں پر انڈیا کا قومی ترانہ گانا جانا ماتا اور پاکستانی ترانہ پاک سرزمین گایا۔اس گانے کی ویڈیو ان الفاظ پر اختتام پذیر ہوئی امن کے لیے ساتھ کھڑے ہوں۔چند روز قبل 11 اگست کو وائس آف رام نے ایک اور ویڈیو جاری کی تھی جس میں بھارتی گلوکاروں کے گروپ واکس کورڈ نے پاکستانی ترانہ بغیر کسی دھن کے گایا اور اس کے بارے میں کہا کہ یہ ترانہ ایمان، فخر، طاقت اور ترقی کے بارے میں ہے۔ اس ویڈیو کو فیس بک پر 468000 مرتبہ دیکھا گیا۔وائس آف رام کے سربراہ، فلم ساز رام سبرامنیان نے انڈین ویب سائٹ کیچ نیوز کو بتایا کہ انھوں نے یہ ویڈیوز اس لیے بنائیں کیونکہ بہت سے لوگ امن کے بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ ہیں اور یہ یہ ناقابل فہم ڈر ہے۔انھوں نے مزید کہا میرے لیے یہ ویڈیوز ایک نئی شروعات کی مانند ہیں اور امن کی جانب ایک چھوٹا سے قدم ہے۔فیس بک پر ایک انڈین صارف کلپیش پٹیل نے وائس آف رام کی ویڈیو پر لکھا: میں امید کرتا ہوں کے یہ پاکستان میں وائرل ہو جائے۔ انڈیا میں بہت سے لوگ ہیں جو امن چاہتے ہیں

اور یہ جشن آزادی کا بہترین تحفہ ہے۔پاکستان میں کراچی سے اساما فاروقی نے جواب میں لکھا یہ پاکستان میں وائرل ہو گیا ہے۔ یہ بہت ہی خوبصورت ہے اور اسے سنتے ہوئے سکون کا احساس ہوتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بہت سا پیار۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…