جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سینکڑوں جہازوں اور ہزاروں جانوں کو نگل جانے والے برمودا ٹرائی اینگل پر اچانک پر اسرار جزیرہ نکل آیا

datetime 3  جولائی  2017 |

جنوبی کیرولینا ( مانیٹرنگ ڈیسک ) برسوں سے پراسراریت کی دھند میں لپٹے اور بحری اور ہوائی جہازوں کو نگل لینے والے برمودا ٹرائی اینگل میں غیر معمولی طور پر جزیرہ ابھر آیا ۔ حکام نے لوگوں کے وہاں جانے پر پابندی عائد کر دی ۔ برمودا تکون جسے شیطانی تکون بھی کہا جاتا ہے بحر اوقیانوس میں واقع سمندر کا ایک مخصوص حصہ ہے ۔ اس علاقے کا ایک کونا برمودا، دوسرا پورٹوریکو اور تیسرا میلبورن سے متصل ہے

اور ان تینوں کونوں کے درمیانی حصے کو برمودا تکون یا مثلث کہا جاتا ہے ۔برمودا تکون گزشتہ طویل عرصے سے دنیا کے لیے اسرار کے دبیز پردوں میں لپٹی ہے ۔ یہاں بے شمار بحری جہازوں کی گمشدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں جنہیں ڈھونڈنے کے لیے جانے والے بحری و ہوائی جہاز بھی ایسے کھوئے کہ تمام تر ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود آج تک ان کا سراغ نہ مل سکا ۔ یہ جہاز اور ان پر موجود افراد کہاں گئے ، کیا اس تکون سے گزر کر وہ کسی دوسری دنیا میں پہنچ گئے ، یا کسی شیطانی قوت نے انہیں دنیا کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا ، یہ وہ افسانے ہیں جنہوں نے اس تکون کو خوف اور اسرار سے منسوب کردیا ہے تاہم اب اس تکون کے اسرار میں مزید اضافہ ہوگیا جب اچانک یہاں سے ایک جزیرہ ابھر آیا ہے ۔جنوبی کیرولینا کے ساحل کے ساتھ ابھرنے والے اس جزیرے کو مقامی افراد نے شیلی یا سیپیائی جزیرے کا نام دیا ہے کیونکہ یہاں لاتعداد سیپیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ ان کے مطابق یہ جزیرہ گزشتہ 2 سے 3 ماہ میں ابھرنا شروع ہوا ہے ۔ ابتدا میں لوگوں کی بڑی تعداد نے یہاں جانا شروع کردیا تاہم جلد ہی حکومت نے یہاں لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا ۔ اس کی وجہ یہاں پائی جانے والی شارکس ہیں جو لوگوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں ۔ جزیرے کے مقام والا بحر اوقیانوس کا یہ حصہ خطرناک شارک مچھلیوں سے بھرا پڑا ہے

اور حکومت کے مطابق اگر یہاں لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی نہ عائد کی جاتی تو کوئی بڑا سانحہ رونما ہوسکتا تھا ۔ علاوہ ازیں نئے ابھرنے والے جزیرے کی زمین اور ساحل کی زمین کے درمیان زیر زمین کرنٹ بھی موجود ہیں جو خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ فی الحال اس جزیرے کا مستقبل واضح نہیں کہ آیا یہ جزیرہ بڑھ کر مستقل جگہ حاصل کرلے گا، یا کچھ عرصے بعد غائب ہوجائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…