جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلیا بھی جنگ کے میدان میں کود پڑا،33ہزار امریکی اورآسٹریلوی فوجی بحیرہ چین میں پہنچ گئے

datetime 30  جون‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی) متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں امریکہ اور آسٹریلیا کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا گیا ہے،یہ مشقیں ایک ماہ تک جاری رہیں گی، ان مشقوں کو چین کے خلاف ایک متحدہ محاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ان مشقوں میں 33 ہزار امریکی اور آسٹریلوی فوجیوں سمیت ہتھیاروں کے لڑائی کی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں جاری ان مشقوں سے چین کی جانب سے محاذی سر گرمی پر کشیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی پیسفک کمانڈ رکے سربراہ ایڈمرل ہیری ہارس نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ مشقیں ایک پیغام کے طور پر ہے جسے ہمارے دوستوں ، اتحادیوں اور شراکت داروں نے ممکنہ مخالفین کو بھیجا ہے اور میں اس پیغام پر خوش ہوں،سڈنی یونیورسٹی میں سیاست اور غیر ملکی پالیسی کے پروفیسر جیمز کرران نے کہا کہ اس مشق نے امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان قریبی فوجی تعلقات کی وضاحت کی ہے ، چین کے لئے یہ علاقہ سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا علاقہ ہے، چین اس کے ذریعے 5ٹریلین ڈالر کی سالانہ تجارت کرتا ہے،جبکہ برونائی، ملائیشیا، فلپائن، ویت نام اور تائیوان بھی اس پانی کے راستے کے دعویدار ہیں۔معروف چینی روزنامہ ساؤتھ چائنا مارننگ کی رپورٹ کے مطابق متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں امریکہ اور آسٹریلیا کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، ان مشقوں کو چین کے خلاف ایک متحدہ محاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ان مشقوں میں 33 ہزار امریکی اور آسٹریلوی فوجیوں سمیت ہتھیاروں کے لڑائی کی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں جاری ان مشقوں سے چین کی جانب سے محاذی سر گرمی پر کشیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی پیسفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہارس نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ مشقیں ایک پیغام کے طور پر ہے جسے ہمارے دوستوں ، اتحادیوں اور شراکت داروں نے ممکنہ مخالفین کو بھیجا ہے اور میں اس پیغام پر خوش ہوں،امریکہ اور چین مابین تعلقات اس وقت ممکنہ طور پر کھٹائی میں دکھائی دیتے ہیں۔

امریکہ جنوبی بحیرہ چین پر بیجنگ کے مصنوعی جزیرے کی تعمیر نہیں چاہتا اور نہ ہی اس سمندری حدود میں چین کی ممکنہ طور پر حکمرانی کی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے۔ چین کے لئے یہ علاقہ سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا علاقہ ہے، چین اس کے ذریعے 5ٹریلین ڈالر کی سالانہ تجارت کرتا ہے۔جبکہ برونائی، ملائیشیا، فلپائن، ویت نام اور تائیوان بھی اس پانی کے راستے کے دعویدار ہیں۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کا کہنا ہے کہ چین نے گذشتہ 3سالوں میں اس متنازعہ سمندری علاقہ کے3200ایکڑ پر چین اپنی فوجی تنصیبات ، مواصلات ،ریلوے، بندرگاہیں اور ہوائی جہاز کے اڈے نصب کر چکا ہے جو کہ غلط ہے، سڈنی یونیورسٹی میں سیاست اور غیر ملکی پالیسی کے پروفیسر جیمز کرران نے کہا کہ اس مشق نے امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان قریبی فوجی تعلقات کی وضاحت کی ہے۔ لیکن چین میں گھیرنے کے بارے میں فکر بڑھ سکتی ہے۔یہ مشقیں آسٹریلوی علاقائی پانیوں میں ایک ماہ تک جاری رہیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…