جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

امریکہ نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے مد مقابل دو منصوبے بنالئے،افغانستان اور بھارت کو ملایاجائیگا،تفصیلات جاری

datetime 30  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکہ بھارت کے ساتھ مل کرچین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے مد مقابل دو اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کا آغاز کرنا چاہتا ہے، ان منصوبوں میں بھارت کا کردار اہم ہو گا،یہ منصوبے جنوبی ایشیائی ممالک کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو باہم ملانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں،،

نیو سلک روڈ (NSR)افغانستان اور اس کے ہمسائیہ ممالک اور ہند بحرالکاہل جنوب اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو ملائے گی، اس منصوبہ کے لئے علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کی جائیگی اور تعاون کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں اور نجی شعبہ سے بھی مدد لی جائیگی،امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ دور رس عوامی سفارت کاری کے پروگراموں میں بھارت افغانستان اور دیگر علاقائی ممالک کی بھر پور حمایت کرے گا،افغانستان میں اقتدار کی منتقلی بتدریج جاری ہے اور اس منصوبہ کی بدولت افغان عوام کامیاب اور اپنے طور پر کھڑے ہو سکیں گے۔امریکی محکمہ خارجہ تعلقات کونسل کے جیمز میک برائڈ کے مطابق این ایس آر مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور وسطی ایشیا کو اقتصادی ترقی اور استحکام لانے کی صلاحیت ہے۔معروف خبر رساں ادارہ فرسٹ پوسٹ میں شائع کردہ تفصیلات کے مطابق امریکہ بھارت کے ساتھ مل کرچین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے مد مقابل دو اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ ان منصوبوں میں بھارت کا کردار اہم ہو گا۔یہ منصوبے جنوبی ایشیائی ممالک کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو باہم ملانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔دونوں منصوبوں کا خاکہ گذشتہ روزبجٹ میں نئی شاہراہ اور ریشم منصوبہ کے نام سے شامل کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جنوب اور وسطی ایشیا کی اس بجٹ درخواست کے ان اقدامات کی تائید کی جائے گی۔  نیو سلک روڈ (NSR)افغانستان اور اس کے ہمسائیہ ممالک اور ہند بحرالکاہل جنوب اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو ملائے گی۔اس منصوبہ کے لئے علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کی جائیگی اور تعاون کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں اور نجی شعبہ سے بھی مدد لی جائیگی۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سفارتی پروگراموں میں بھارت افغانستان اور دیگر علاقائی ممالک کی بھر پور حمایت کرے گا۔ افغانستان میں اقتدار کی منتقلی بتدریج جاری ہے اور اس منصوبہ کی بدولت افغان عوام کامیاب اور اپنے طور پر کھڑے ہو سکیں گے۔امریکی محکمہ خارجہ تعلقات کونسل کے جیمز میک برائڈ کے مطابق این ایس آر مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور وسطی ایشیا کو اقتصادی ترقی اور استحکام لانے کی صلاحیت ہے۔

واضح رہے ہ اس منصوبے کااعلان سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے 2011میں چنائے میں اپنی تقریر میں کیا تھا۔ کلنٹن نے چنئی میں کہا تھا: “ترکمان گیس فیلڈز پاکستان کی اور بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات دونوں کو پورا کرنے میں مدد اور افغانستان اور پاکستان تاجک کپاس دونوں کے لیے اہم ٹرانزٹ آمدنی فراہم کر سکتا ہے اور اب ٹرمپ انتظامیہ اس منصوبہ میں بھارت کو انتہائی اہم رول دیتے ہوئے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مکمل کرنا چاہتا ہے۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…