بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

مسلمان پھر مسلمان ہیں! لندن میں نمازیوں کو کچلنے والے حملہ آور کوکس اہم شخصیت نے بچایا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 20  جون‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی )برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں گذشتہ شب نمازیوں کو گاڑی تلے روندنے میں ملوث ملزم کے بارے میں ابتدائی اطلاعات میں پتا چلا ہے کہ امام مسجد نے ملزم کومشتعل ہجوم سے بچانے میں اس کی مدد کی، اگر امام مسجد درمیان میں حائل نہ ہوتے تو بپھرا ہجوم دہشت گرد کو جان سے مار ڈالتا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امام مسجد نے مشتعل ہجوم کو مبینہ حملہ آور کو قتل کرنے سے روکا۔

وہ مشتعل ھجوم اور حملہ آور کے درمیان بیس منٹ تک حائل رہے۔ یہاں تک کہ پولیس آ پہنچی اور حملہ آور کو پولیس کیحوالے کردیا گیا۔اخبار میٹرو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشتعل ھجوم نے مشتبہ حملہ آور کو روکا اور اسے مارنے کے لیے آگے بڑھے، مگر امام مسجد نے ھجوم کو قابو کرتے ہوئے حملہ آور کی طرف بڑھنے اور اسے مارنے سے روکا۔خیال رہے کہ شمالی لندن میں اتوار اور سوموار کی درمیانی شب ایک شخص نے اپنی گاڑی نماز تراویح پڑھ کر گھروں کو لوٹنے والے نمازیوں پر چڑھا دی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم دو افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے تھے۔اخبار نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ مشتعل ھجوم نے حملہ آور کو پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا۔ لوگ سخت غصے میں تھے اور وہ حملہ آور پر پل پڑنے کے لیے تیار تھے کہ مسجد کے امام اور اسلامی مرکز کے سربراہ نے ھجوم سے پرسکون رہنے کو کہا جس پر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ اس کیبعد مشتبہ حملہ آور کو پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔اخباری رپورٹ کے مطابق امام مسجد کی ہدایت پر کچھ مسلمان نوجوانوں نے حملہ آور کے گرد مضبوط گھیرا بنا کر مشتعل ھجوم کو روکنے کے ساتھ ساتھ حملہ آور کو بھی فرار ہونے سے روکا۔ اتنے میں پولیس کی گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور انہوں نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا۔

درایں اثنا مسجد کی انتظامیہ اور اسلامی مرکز نے واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم وینز پری پارک میں گذشتہ کئی عشروں سے مسلمان آبادی میں رواداری کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ ہم ہر قابل نفرت اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ اس میں کسی بھی مذہب کے پیروکار ملوث ہوں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…