جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کتنے لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 19  جون‬‮  2017 |

نیویارک(این این آئی)دنیا میں چھ کروڑ افراد بے گھر،پاکستان 14لاکھ پناہ گزینوں کا میزبان،اقوامِ متحدہ نے کہاہے کہ اس وقت دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ افراد مہاجر ہیں، پناہ کے متلاشی ہیں یا پھر اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2015 کے مقابلے پر 2016 میں اس تعداد میں تین لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

یہ تعداد 2014 تا 2015 کے مقابلے پر خاصی کم ہے جب تقریباً 50 لاکھ افراد بیگھر ہوئے تھے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزینان فلیپو گرانڈی کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود یہ بین الاقوامی سفارت کاری کی مایوس کن ناکامی ہے۔انھوں نے کہاکہ ا یسا لگتا ہے کہ دنیا امن قائم کرنے کے قابل نہیں رہی۔آپ دیکھتے ہیں کہ پرانے تنازعات اب بھی جوں کے توں چلے آ رہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ نت نئے تنازعات بھی بیدار ہو رہے ہیں، اور ان دونوں کے نتیجے میں لوگ در بدر ہو رہے ہیں۔ جبری دربدری کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں کی علامت ہے۔گرانڈی نے خبردار کیا کہ اس کا بوجھ دنیا کے غریب ترین ملکوں پر پڑ رہا ہے، کیوں کہ دنیا کے 84 فیصد سے زیادہ پناہ گزینوں کا تعلق غریب اور متوسط آمدنی والے ملکوں سے ہے۔انھوں نے کہاکہ میں افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کم وسائل کے حامل ملکوں سے یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ پناہ گزینوں کو قبول کریں جب کہ امیر ملک ایسا کرنے سے انکاری ہیں؟اقوامِ متحدہ نے امید ظاہر کی کہ اس رپورٹ کی اشاعت سے امیر ملکوں کو دوبارہ سوچنے کا موقع ملے گا کہ وہ نہ صرف زیادہ پناہ گزینوں کو قبول کریں، بلکہ امن کی ترویج اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی حصہ ڈالیں۔س وقت دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ افراد بیگھر ہیں، سوا دو کروڑ مہاجر ہیں، چار کروڑ اپنے ہی ملک میں بیگھر ہیں،28 لاکھ دوسرے ملکوں میں پناہ کے متلاشی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…