جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے ایران کی حکومت بدلنے کی ٹھان لی،حیرت انگیزاعلان

datetime 18  جون‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )امریکا میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے معروف سینیٹر اور امریکی سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے سربراہ جان مکین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے واسطے ایران میں نظام کو تبدیل کیا جائے، انہوں نے خطے میں تہران کی مداخلت اور دہشت گردی کے لیے اس کی سپورٹ کی سخت مذمت کی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مکین کا یہ بیان ایران

کے حوالے سے امریکی کانگریس کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ اجلاس میں سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی شرکت کی۔ایرانی اپوزیشن کی ایک ویب سائٹ کے مطابق مکین نے زور دے کر کہا کہ نظام کی تبدیلی کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مثر جمہوریت اور ایران میں ایک آزاد اور کشادہ معاشرے کو یقینی بنایا جائے۔مکین نے سابق انتظامیہ کے ایرانی نظام کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ جمہوریت اور آزادی کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔جان مکین کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ کے اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آیا جس میں ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ ایران کے حوالے سے امریکا کی پالیسی کا بنیادی محور یہ ہے کہ اس ملک میں اقتدار کی پر امن تبدیلی کے واسطے اندرونی سیاسی طاقتوں کو سپورٹ کیا جائے۔گزشتہ بدھ کو کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کی جانب سے “غیر نیوکلیئر” پابندیوں کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ اس کا مقصد دہشت گردی کی سپورٹ، متنازع میزائل پروگرام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھنے کے سبب تہران پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔یہ بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ایران کے حوالے سے نئی پالیسی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ موقف سابق صدر اوباما کی پالیسیوں سے یکسر مختلف ہے

جن کے نتیجے میں خطے میں تہران کے غلبے ، توسیع اور رسوخ کے علاوہ مشرق وسطی میں دہشت گردی کا پھیلا ، فرقہ وارانہ جنگیں اور امن و امان کا عدم استحکام سامنے آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…