جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں یوسف القرضاوی کی کتابوں پر پابندی عائد،وزیرتعلیم کی تصدیق

datetime 12  جون‬‮  2017 |

ریاض(آن لائن)سعودی عرب کی حکومت نے قطری حمایت یافتہ عالم دین یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر سعودی عرب میں مکمل طورپر پابندی عاید کردی ہے۔ عرب خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے وزیر تعلیم احمد بن محمد العیسی نے ایک عاجلانہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ مملکت میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل مصری نژاد مبلغ یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر پابندی ہے اور سعودیہ کے کسی اسکول یا یونیورسٹی میں ان کی کوئی کتاب موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوسف القرضاوی کی تمام کتب اسکولوں اور جامعات کے نصاب سے نکال دی گئی ہیں۔ ان کی کتب کی سعودی عرب میں طباعت و اشاعت پر بھی پابندی عاید کی گئی ہے تاکہ ان میں بیان کردہ حساس موضوعات میں سعودی طلبا وطالبات کو الجھا کر دہشت گردی کی راہ پر چلنے سے روکا جاسکے۔سعودی وزارت تعلیم نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یوسف القرضاوی کی کتب کو نصاب سے نکالیں اور لائبریریوں میں موجود ان کی کتب کو وہاں سے ہٹایا جائے۔سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے یوسف القرضاوی کی کتب پر پابندی ایک ایسے وقت میں عاید کی گئی ہے جب مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے دہشت گردی میں ملوث 59 شخصیات اور 12اداروں کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں شامل تمام شخصیات اور اداروں کو قطری حکومت کی سرپرستی اور مالی تعاون حاصل ہے۔وزارت تعلیم کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مصری نژاد یوسف عبداللہ القرضاوی کا نام دہشت گردی کی معاون شخصیات میں شامل ہے۔وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ مملکت میں فرقہ وارنہ مواد، گمراہ کن نظریات کی ترویج اورانتہا پسندانہ افکار پر مبنی لٹریچر کی طباعت واشاعت پر سختی سے پابندی عاید کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں متنازع نوعیت کا لٹریچر لانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…