جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

چاہ بہارکے ذریعے خطے پر بالادستی کا خواب چکناچور،بھارت اور ایران کو بڑے نقصان کا سامنا

datetime 10  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی/لندن(آئی این پی) ایرانی بندرگاہ کے ذریعے خطے پر بالادستی کا بھارتی خواب چکناچور ہوگیا،غیر ملکی کمپنیوں نے ایرانی بندرگاہ میں سرمایہ کاری سے انکار کردیا ۔برطانوی خبررساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق ایران پر دوبارہ امریکی پابندیاں عائد ہونے کے امکان کی وجہ سے مغربی کمپنیوں نے چابہار بندرگاہ کے لیے بھارت کو آلات بیچنے سے انکار کردیا۔خلیج عدن میں واقع چابہار بندرگاہ آبنائے ہرمز تک پہنچتی ہے،

جس کے ذریعے بھارت نے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور افغانستان تک براہ راست رسائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارت اور ایران کے درمیان چابہار میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدہ پر دستخط ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم بندرگاہ کو تعمیر کرنے والی سرکاری بھارتی فرم تاحال آلات بشمول کرینوں اور فورک لفٹس کی فراہمی کا ایک ٹینڈر بھی منظور نہیں کرسکی ہے۔بھارتی حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے متعلق رویہ جارحانہ ہے جس کی وجہ سے امریکی پالیسی میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔جیٹی اور کنٹینر ٹرمینل کا تعمیراتی سامان بنانے والے سوئس انجینئرنگ گروپ لائبہر اور فن لینڈ کی دو کمپنیوں کون کرینز اور کارگو ٹیک نے بھارت کی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل پرائیوٹ لمیٹڈ کو آگاہ کیا کہ وہ چابہار کے ٹھیکے میں بولی دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے بینکوں نے امریکی پالیسی کی غیر یقینی کے باعث ایرانی منصوبوں میں ٹرانزیکشنز کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔بھارتی حکام نے بتایا کہ نوبت یہ آچکی ہے کہ ہم ٹھیکیداروں کے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ بولی دہندگان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بعض ٹینڈرز تین تین بار جاری کیے جاچکے ہیں۔ تاہم اب تک صرف ایک چینی کمپنی زیڈ پی ایم سی نے ہی کچھ سامان فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…