جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چاہ بہارکے ذریعے خطے پر بالادستی کا خواب چکناچور،بھارت اور ایران کو بڑے نقصان کا سامنا

datetime 10  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی/لندن(آئی این پی) ایرانی بندرگاہ کے ذریعے خطے پر بالادستی کا بھارتی خواب چکناچور ہوگیا،غیر ملکی کمپنیوں نے ایرانی بندرگاہ میں سرمایہ کاری سے انکار کردیا ۔برطانوی خبررساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق ایران پر دوبارہ امریکی پابندیاں عائد ہونے کے امکان کی وجہ سے مغربی کمپنیوں نے چابہار بندرگاہ کے لیے بھارت کو آلات بیچنے سے انکار کردیا۔خلیج عدن میں واقع چابہار بندرگاہ آبنائے ہرمز تک پہنچتی ہے،

جس کے ذریعے بھارت نے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور افغانستان تک براہ راست رسائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارت اور ایران کے درمیان چابہار میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدہ پر دستخط ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم بندرگاہ کو تعمیر کرنے والی سرکاری بھارتی فرم تاحال آلات بشمول کرینوں اور فورک لفٹس کی فراہمی کا ایک ٹینڈر بھی منظور نہیں کرسکی ہے۔بھارتی حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے متعلق رویہ جارحانہ ہے جس کی وجہ سے امریکی پالیسی میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔جیٹی اور کنٹینر ٹرمینل کا تعمیراتی سامان بنانے والے سوئس انجینئرنگ گروپ لائبہر اور فن لینڈ کی دو کمپنیوں کون کرینز اور کارگو ٹیک نے بھارت کی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل پرائیوٹ لمیٹڈ کو آگاہ کیا کہ وہ چابہار کے ٹھیکے میں بولی دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے بینکوں نے امریکی پالیسی کی غیر یقینی کے باعث ایرانی منصوبوں میں ٹرانزیکشنز کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔بھارتی حکام نے بتایا کہ نوبت یہ آچکی ہے کہ ہم ٹھیکیداروں کے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ بولی دہندگان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بعض ٹینڈرز تین تین بار جاری کیے جاچکے ہیں۔ تاہم اب تک صرف ایک چینی کمپنی زیڈ پی ایم سی نے ہی کچھ سامان فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…