جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

انوکھا فراڈ،فیشن کی دنیا کے معروف پاکستانی کابرطانیہ کو40ارب کا جھٹکا،سیکورٹی ایجنسیوں کے تمام حفاظتی اقدامات توڑ کربغیر پاسپورٹ کے ہی پاکستان کیسے واپس پہنچ گیا،ایسا طریقہ کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

datetime 10  جون‬‮  2017 |

لندن(نیوزڈیسک)انوکھا فراڈ،فیشن کی دنیا کے معروف پاکستانی کابرطانیہ کو40ارب کا جھٹکا،سیکورٹی ایجنسیوں کے تمام حفاظتی اقدامات توڑ کربغیر پاسپورٹ کے ہی پاکستان کیسے واپس پہنچ گیا،ایسا طریقہ کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار میل آن لائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 28سالہ پاکستانی شاہد لقمان جو کہ پاکستانی فیشن انڈسٹری میں کافی معروف نام ہے

اس نے برطانیہ میں اپنے کاروبار کے نام پر مختلف بینکوں سے 30کروڑ پاﺅنڈ یعنی تقریباً چالیس ارب کے قرضے لئے اور اس کے بعد اپنے کاروبار کو نقصان میں ظاہر کرتے ہوئے خود کو دیوالیہ قراردیدیا، پولیس تحقیقات میں اس پر الزام عائد کیاگیا کہ یہ سب کچھ اس نے منصوبے کے تحت کیا تھا تاکہ انشورنس اور قرض کی رقم ہڑپ کرسکے ، جس کے بعد شاہد لقمان پر قرض واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج کیاگیا اور اس کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیاگیا لیکن پاسپورٹ کے ضبط ہونے کے بعد بھی شاہد لقمان نے جعلی پاسپورٹ کے ذریعے بیرون ملک فرار کی کوشش کی اور پکڑا گیا لیکن بالاخر وہ حیرت انگیزطورپر 2011ءمیں کروڑوں پاﺅنڈ رقم لیکر مانچسٹر ایئرپورٹ سے حیرت انگیز طورپر بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، سیکورٹی ایجنسیاں حیران ہیں کہ اس شخص کے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں تھا اور سیکورٹی ایجنسیوں نے اس کی نگرانی کے لیے اسے الیکٹرانک ٹیگ بھی پہنایا ہوا تھا اس کے باوجود وہ برطانیہ سے نکلنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ برطانوی عدالت میں جو تفصیلات پیش کی گئی ہیں ان کے مطابق شاہد لقمان نے لاہور میں ایک بڑا شاپنگ مال بھی بنالیا ہے اور پاکستان میں شاہانہ طرز سے زندگی گزار رہا ہے جس کی تصاویر بھی عدالت میں پیش کی گئیں جس پر برطنوی جج نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ،بتایا گیا ہے کہ شاہد لقمان کا پاکستان میں اپنا فیشن برانڈ ہے اور اس کی کئی فیشن میگزینز میں بھی مختلف ماڈلز کے ساتھ تصاویر شائع ہوتی رہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…