جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

دہشت گردوں سے روابط کے الزام پرترک صدر کادوٹوک جواب،قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے کے بارے میں ایسا اعلان کردیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 10  جون‬‮  2017 |

استنبول (آئی این پی)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کا راستہ اختلاف نہیں بلکہ اتفاق سے گزرتا ہے، ہم قطر سے ہر طرح کا تعاون جاری رکھیں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ِ ترک صدر نے اپنی سیاسی جماعت آق پارٹی کے استنبول ضلعی مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک افطار پروگرام سے خطاب میں قطر کا ذکر کرتے ہوئے اسلام جغرافیہ میں رونما ہونے والے واقعات پر توجہ مبذول کرائی۔

مسلمانوں کے بیچ لڑائی جھگڑوں اور فسادات سے تنگ آنے کا کہنے والے اردگان نے بتایا کہ شام، عراق، یمن، افغانستان، میانمار اور اب قطر میں پیش آنے والے واقعات کسی کے لیے بھی سو د مند ثابت نہیں ہوں گے، ان تمام مسائل کا جلد از جلد حل تلاش کیا جانا چاہیے۔قطر کے بارے میں روزانہ ایک نئی خبر پھیلنے پر زور دینے والے صدر نے کہا کہیہ لوگ قطر میں مختلف فلاحی خدمات کے لیے قائم کردہ ایک انجمن کو دہشت گرد قرار دے دہے ہیں، یہ ایک ناقابل قبول فعل ہے، میں اس انجمن کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوں ، قطر کے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کا آج تک میں نے کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دو ہفتوں تک قطر کے ساتھ اچھے تعلقات پائے جانے والے خلیجی ممالک کی جانب سے دوست اور برادر ملک کی نظر سے دیکھے جانے والے قطر کو ایک دہشت گرد ملک قرار دینا ایک ذی فہم بات نہیں ہے، ہم قطری بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ہم انہیں حق کی راہ میں پورا کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ بطور ترکی، ہم نے خطے میں ہمیشہ سے ہی استحکام، سلامتی، امن و آشتی کی حمایت کی ہے۔ ہم بلا کسی تفریق کے ہمارے بھائیوں کے درمیان تنازعات کو دور کرنے ، ان کو مشترکہ مفاد کے پلیٹ فارمز میں یکجا کرنے کے زیر مقصد وسیع پیمانے کی سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انشااللہ قلیل مدت میں ہماری یہ کوششیں رنگ لائیں گی۔ سب سے زیادہ ہمیں متاثر کرنے والے اور مسلمانوں کے وقار کو ٹھیس پہنچانے والی دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کیے جانے کا راستہ اختلاف نہیں بلکہ اتفاق سے گزرتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے کل شام اعلانات پر بھی اپنا جائزہ پیش کرتے ہوئے صدرِ ترکی نے کہا کہ ٹیلرسن کے قطر پر عائد کردہ پابندیوں میں تحفیف لانے کے حوالے سے اعلانات اہم ہیں۔

انہوں نے اس ملک پر عائد تمام تر پابندیوں کو ہٹائے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے خلیجی ملکوں میں سے سب سے بڑے اور طاقتور ملک سعودی عرب پر اس حوالے سے بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ایردوان نے آخر میں یہ سوال بھی کیا کہ اے خلیجی بھائیو امریکہ کا قطر میں فوجی اڈہ آیا کہ کیوں آپ کو بے چین نہیں کرتا؟ وہاں پر دیگر ملکوں کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں یہ بھی آپ کے لیے کیونکر تشویش ناک نہیں ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…