جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

40سال سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ اب کیا سلوک ہورہاہے؟افسوسناک انکشافات

datetime 7  جون‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکومت نے 40سال تک سعود ی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کوملک چھوڑنے کاحکم دیدیاہے ،سعودی حکام نے جن پاکستانی خاندانوں کوملک چھوڑنے کے احکامات جاری کئے ہیں ان میں وہ پاکستانی بھی شامل ہیں جنہوں نے سعودی عرب میں شادیاں کیں اورسعود ی عرب کی مقامی خواتین بھی ان کی بیویاں ہیں جواب ان خاندانوں کاحصہ بن چکی ہیں

جبکہ ان کے بچے بھی سعودی عرب میں پیداہوئے ہیں ،جن پاکستانی خاندانوں کومملکت چھوڑنے کاحکم جاری کیاگیاہے ان میں ہرخاندان کے5سے 8بچے ہیں اوران کی عمریں بھی 6برس سے لے کر20برس تک کے د رمیان ہیں ،ان پاکستانی خاندانوں کوسعودی عرب چھوڑنے کاحکم اس لئے جاری کیاگیاکہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے نے ان بچوں کی رجسٹریشن نہیں کی جس کے بعد سعودی حکام نے ان کوویزے جاری کرنے سے انکارکردیا۔اس کے علاوہ سعودی یمن تنازعہ کی وجہ سے کئی بڑی کمپنیاں سعودی عرب میں کاروبارختم کرکے چلی گئی ہیں اوران میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے ویزے بھی زائدالمعیاد ہوگئے ہیں اورکمپنیوں کے سعودی عرب چھوڑنے کے بعد ان ملازمت پیشہ افراد اوران کے بچوں کوویزوں کااجرانہیں کیاجاسکتا کیونکہ کمپنی کی طرف سے جاری کردہ لیٹرکے بعد ہی سعود ی عرب میں ویزے کی تجدید ہوتی ہے ۔اب صورتحال یہ ہے کہ ان پاکستانی خاندانوں کے بچے نہ توپاکستان میں رجسٹرڈہیں اورنہ ہی سعودی عرب میں ،جبکہ ان کے والدین شدیدمالی مشکلات کاشکارہیں اوران کی نظریں اب پاکستانی سفارتخانے کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ سفارتخانے کی مددسے ہی ان کے پاکستان واپسی کے ٹکٹس ،شناختی کارڈزاورپاسپورٹس کااجراممکن ہے ۔یہ پاکستانی خاندان اپنے بچوں کوچھوڑکرکسی اورملک میں نہیں جا سکتے

کیونکہ ان کے بچوں کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں ہیں جبکہ دوسری طرف سعودی حکومت نے ان کومملکت چھوڑنے کی ڈیڈلائن دے رکھی ہے ،ان خاندانوں نے پاکستانی حکومت اورسفارتخانے سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بچوں کی رجسٹریشن کراکے ان کوویزے جاری کرائے تاکہ وہ اپنے بچوں کوچھوڑنے پاکستان آسکیں اورخودملازمت کےلئے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش کریں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…