جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

40سال سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ اب کیا سلوک ہورہاہے؟افسوسناک انکشافات

datetime 7  جون‬‮  2017 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکومت نے 40سال تک سعود ی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کوملک چھوڑنے کاحکم دیدیاہے ،سعودی حکام نے جن پاکستانی خاندانوں کوملک چھوڑنے کے احکامات جاری کئے ہیں ان میں وہ پاکستانی بھی شامل ہیں جنہوں نے سعودی عرب میں شادیاں کیں اورسعود ی عرب کی مقامی خواتین بھی ان کی بیویاں ہیں جواب ان خاندانوں کاحصہ بن چکی ہیں

جبکہ ان کے بچے بھی سعودی عرب میں پیداہوئے ہیں ،جن پاکستانی خاندانوں کومملکت چھوڑنے کاحکم جاری کیاگیاہے ان میں ہرخاندان کے5سے 8بچے ہیں اوران کی عمریں بھی 6برس سے لے کر20برس تک کے د رمیان ہیں ،ان پاکستانی خاندانوں کوسعودی عرب چھوڑنے کاحکم اس لئے جاری کیاگیاکہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے نے ان بچوں کی رجسٹریشن نہیں کی جس کے بعد سعودی حکام نے ان کوویزے جاری کرنے سے انکارکردیا۔اس کے علاوہ سعودی یمن تنازعہ کی وجہ سے کئی بڑی کمپنیاں سعودی عرب میں کاروبارختم کرکے چلی گئی ہیں اوران میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے ویزے بھی زائدالمعیاد ہوگئے ہیں اورکمپنیوں کے سعودی عرب چھوڑنے کے بعد ان ملازمت پیشہ افراد اوران کے بچوں کوویزوں کااجرانہیں کیاجاسکتا کیونکہ کمپنی کی طرف سے جاری کردہ لیٹرکے بعد ہی سعود ی عرب میں ویزے کی تجدید ہوتی ہے ۔اب صورتحال یہ ہے کہ ان پاکستانی خاندانوں کے بچے نہ توپاکستان میں رجسٹرڈہیں اورنہ ہی سعودی عرب میں ،جبکہ ان کے والدین شدیدمالی مشکلات کاشکارہیں اوران کی نظریں اب پاکستانی سفارتخانے کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ سفارتخانے کی مددسے ہی ان کے پاکستان واپسی کے ٹکٹس ،شناختی کارڈزاورپاسپورٹس کااجراممکن ہے ۔یہ پاکستانی خاندان اپنے بچوں کوچھوڑکرکسی اورملک میں نہیں جا سکتے

کیونکہ ان کے بچوں کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں ہیں جبکہ دوسری طرف سعودی حکومت نے ان کومملکت چھوڑنے کی ڈیڈلائن دے رکھی ہے ،ان خاندانوں نے پاکستانی حکومت اورسفارتخانے سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بچوں کی رجسٹریشن کراکے ان کوویزے جاری کرائے تاکہ وہ اپنے بچوں کوچھوڑنے پاکستان آسکیں اورخودملازمت کےلئے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…