جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کابل سفارتی علاقے میں ٹینکر دھماکے کے بعد پھر لرز اُٹھا،ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے بیٹے کے جنازے میں لگاتار3دھماکے،19ہلاک،عبداللہ عبداللہ کے بارے میں تشویشناک خبر

datetime 3  جون‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے بیٹے کے جنازے میں یکے بعد دیگرے 3دھماکوں کے نتیجے میں 19افراد ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے،نمازہ جنازہ میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی شریک تھے تاہم وہ محفوظ رہے ،طالبان نے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اندرونی تنازعے اور دشمنی کا شاخسانہ قرار دیدیا،

دوسری جانب گزشتہ روز شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ ہفتے کو بھی جاری رہا،200سے زائد مظاہرین نے صدارتی محل کے قریب ٹینٹوں میں رات گزاری ۔ہفتہ کو افغان میڈیاکے مطابق دارالحکومت کابل کے علاقے خیر خانہ کے قبرستان میں اس وقت یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے جب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے بیٹے سالم ایزدیار کا نماز جنازہ ادا اور تدفین کی تیاری کی جارہی تھی جس میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی شریک تھے تاہم وہ محفوظ رہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے نتیجے میں 19افراد ہلاک اور 30سے زائد زخمی ہوگئے ۔سیکورٹی فورسز نے قبرستان کے علاقے کوگھیرے میں لے لیا اور لوگوں کو علاقے میں آنے سے روک دیا۔زخمیوں اور لاشوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ۔طالبان نے ٹویٹر کے ذریعے جاری بیان میں حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے ۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھاکہ انکی تحریک کا نمازجنازہ میں ہونے والے دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔مجاہد نے دعویٰ کیا کہ واقعہ اندرونی تنازعے اور دشمنی کا شاخسانہ ہے ۔واضح رہے کہ دارالحکومت کابل کے سفارتی علاقے میں ہونے والے دھماکے کے خلاف گزشتہ روز صدارتی محل تک مارچ کیا گیا اس دوران پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ اور فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں4افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے ۔

مرنے والوں میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ایزدیار کا بیٹا بھی شامل ہے جو گولی لگنے سے ہلاک ہوگیاتھا ۔کابل مظاہروں کا سلسلہ ہفتے کو بھی جاری رہا۔200سے زائد مظاہرین نے صدارتی محل کے قریب ٹینٹوں میں رات گزاری ،صدارتی محل اور سفارتی علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کیے گئے ہیں۔یاد رہے کہ بدھ کے روز ہونے والے دھماکوں کے بعد کابل میں بیشتر علاقوں میں کرفیو لگا ہوا ہے۔

کابل کے سفارتی علاقے میں ہونے والے دھماکے میں 100کے قریب افراد ہلاک اور400زخمی ہوگئے تھے داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔دوسری طرف کابل میں سفارتی علاقے میں دھماکے میں 90سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد دارالحکومت میں گزشتہ روز ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی زیر صدارت ہنگامی سیکورٹی اجلاس ہوا ہے ۔صدارتی محل سے جار ی بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی اجلاس میں سینئر سیکورٹی حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں مظاہرین پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز اور ملوث افراد کا تعین کرنے کے حوالے سے ضروری اقدامات کے فیصلے کیے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…