جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

90افراد کی ہلاکت،کابل دھماکے میں بھارتی سفارتخانہ ملوث نکلا،ناقابل تردید ثبوت ،افغانستان میں مظاہرے پھوٹ پڑے،شرمناک انکشافات

datetime 2  جون‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) کابل کے انتہائی حساس سفارتی علاقے میں گزشتہ ر وزہونے والے دھماکے میں 90 سے زائد افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ طالبان نے دھماکے سے اعلان لا تعلقی کیا ہے جبکہ افغان حکومت اسے حقانی نیٹ ورک کی کارروائی قرار دے رہی ہے۔دھماکے میں جاں بحق افراد کی نمازجنازہ اداکردی گئی ہے ۔دوسری طرف انکشاف ہواہے کہ کابل میں سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے کیلئے

استعمال کئے گئے 1500 کلوگرام بارود بھرے ٹینکر کو بھارتی سفارتخانے سے کلیئرنس ملنے کا انکشاف ہوا ہے ، جس میں سے بھارتی اور امریکی کاغذات بھی برآمد ہوئےلیکن اشرف غنی حکومت نے معاملہ دبانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی ، بلکہ بھارتی ایما پر حقانی نیٹ ورک کے 11 قیدیوں کو پھانسی دینے کی بھی تیاری کر لی ۔جس کی تصدیق افغان صدارتی ترجمان نے بھی کی ہے ،ترجمان نے کہاہے کہ افغان حکومت جن قیدیوں کو پھانسی دینے پر غور کرہی ہے ، ان میں عبدالقیوم حقانی کے بیٹے انس شامل نہیں۔اشرف غنی حکومت کے اس اقدام پرطالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دھماکے کی آڑ میں کسی کو پھانسی دی گئی تو وہ یرغمال بنائے گئے 4 امریکی اور ایک کینیڈین شہری کو پھانسی دے دیں گے ۔ایک قومی اخبارکی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ر وز کابل میں دھماکے میں استعمال ہونے والے ٹینکر سے امریکہ اور بھارت کے سفارتی کاغذات ملے ہیں، جب کہ 1500 کلو گرام دھماکہ خیز مواد لے جانے والے اس ٹینکر کو کلیئرنس کارڈ بھارتی سفارتخانے نے جاری کیا تھا، لیکن افغان انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس نے تحقیقات کا رخ موڑنے کیلئے حقانی نیٹ ورک پر اس دھماکے کا الزام عائد کرتے ہوئے الزام لگادیا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی ہے ۔دوسری طرف افغان عوام اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے،

افغان صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا، پولیس کا مظاہرین پر دھاوا بول دیا اورامنشتر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیاجس سے متعددافراد زخمی ہوگئے، مظاہرین کا جوابی کارروائی میں پتھروں کا استعمال۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل دھماکے کے خلاف افغان عوام احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ، افغان صدر اشرف غنی کو مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہئے۔مظاہرین نے کابل دھماکے کو حکومت انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے ایوان صدر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس کے باعث پھسلن پیدا ہونے سے کئی مظاہرین گر کر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو شروع کر دیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…