جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

90افراد کی ہلاکت،کابل دھماکے میں بھارتی سفارتخانہ ملوث نکلا،ناقابل تردید ثبوت ،افغانستان میں مظاہرے پھوٹ پڑے،شرمناک انکشافات

datetime 2  جون‬‮  2017 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) کابل کے انتہائی حساس سفارتی علاقے میں گزشتہ ر وزہونے والے دھماکے میں 90 سے زائد افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ طالبان نے دھماکے سے اعلان لا تعلقی کیا ہے جبکہ افغان حکومت اسے حقانی نیٹ ورک کی کارروائی قرار دے رہی ہے۔دھماکے میں جاں بحق افراد کی نمازجنازہ اداکردی گئی ہے ۔دوسری طرف انکشاف ہواہے کہ کابل میں سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے کیلئے

استعمال کئے گئے 1500 کلوگرام بارود بھرے ٹینکر کو بھارتی سفارتخانے سے کلیئرنس ملنے کا انکشاف ہوا ہے ، جس میں سے بھارتی اور امریکی کاغذات بھی برآمد ہوئےلیکن اشرف غنی حکومت نے معاملہ دبانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی ، بلکہ بھارتی ایما پر حقانی نیٹ ورک کے 11 قیدیوں کو پھانسی دینے کی بھی تیاری کر لی ۔جس کی تصدیق افغان صدارتی ترجمان نے بھی کی ہے ،ترجمان نے کہاہے کہ افغان حکومت جن قیدیوں کو پھانسی دینے پر غور کرہی ہے ، ان میں عبدالقیوم حقانی کے بیٹے انس شامل نہیں۔اشرف غنی حکومت کے اس اقدام پرطالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دھماکے کی آڑ میں کسی کو پھانسی دی گئی تو وہ یرغمال بنائے گئے 4 امریکی اور ایک کینیڈین شہری کو پھانسی دے دیں گے ۔ایک قومی اخبارکی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ر وز کابل میں دھماکے میں استعمال ہونے والے ٹینکر سے امریکہ اور بھارت کے سفارتی کاغذات ملے ہیں، جب کہ 1500 کلو گرام دھماکہ خیز مواد لے جانے والے اس ٹینکر کو کلیئرنس کارڈ بھارتی سفارتخانے نے جاری کیا تھا، لیکن افغان انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس نے تحقیقات کا رخ موڑنے کیلئے حقانی نیٹ ورک پر اس دھماکے کا الزام عائد کرتے ہوئے الزام لگادیا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی ہے ۔دوسری طرف افغان عوام اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے،

افغان صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا، پولیس کا مظاہرین پر دھاوا بول دیا اورامنشتر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیاجس سے متعددافراد زخمی ہوگئے، مظاہرین کا جوابی کارروائی میں پتھروں کا استعمال۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل دھماکے کے خلاف افغان عوام احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ، افغان صدر اشرف غنی کو مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہئے۔مظاہرین نے کابل دھماکے کو حکومت انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے ایوان صدر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس کے باعث پھسلن پیدا ہونے سے کئی مظاہرین گر کر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو شروع کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…