جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تمام اصول و ضوابط ایک طرف۔۔ ٹرمپ کے نئے اقدام نے پوری دنیا کو حیران کردیا

datetime 31  مئی‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف عالمی راہنماں کو اپنا موبائل فون نمبر دیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ انھیں براہ راست کال کر سکتے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ ایک غیر معمولی پیشکش ہے جو کہ سفارتی پروٹوکول کے منافی ہے اور اس نے امریکی کمانڈر انچیف کے رابطوں کی سلامتی اور رازداری پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ایسے امور سے براہ راست واقفیت رکھنے والے سابق اور

موجودہ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے کینیڈ اور میکسیکو کے راہنماں سے کہا وہ ان سے ان کے موبائل فون پر رابطہ کریں۔حکام کے بقول اس پیشکش سے فی الوقت کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے استفادہ کیا ہے۔ٹرمپ نے رواں ماہ کے اوائل میں فرانس کے نو منتخب صدر ایمانیؤل میکخواں کو جب مبارکباد کے لیے فون کیا تو ان سے بھی اپنے فون نمبرز کا تبادلہ کیا۔ یہ بات ایک فرانسیسی عہدیدار نے بتائی لیکن انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا میکخواں اس نمبر پر کال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔تمام حکام نے یہ باتیں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائیں کیونکہ وہ اس بارے میں بات معلومات فراہم کرنے کے مجاز نہیں۔ نہ تو وائٹ ہاس اور نہ ہی ٹروڈو کے دفتر نے رابطہ کرنے پر اس بارے میں کوئی ردعمل دیا۔اس جدید دور میں شاید عالمی راہنماں کا ایک دوسرے کو موبائل فون پر کال کرنے کا تصور کوئی اچھوتا نہ ہو۔ لیکن سفارتی ماحول، جہاں عالمی راہنماں کے ایک دوسرے سے رابطوں میں انتہائی منظم طریقے سے معاملات طے کیے جاتے ہیں، کے لیے یہ پروٹوکول کے منافی ہے۔صدر ٹرمپ ان لوازمات اور انتظامات کو زیادہ پسند نہیں کرتے اور صدر منتخب ہونے سے قبل بھی باآسانی اپنے موبائل پر بات کرنے کے دستیاب ہوا کرتے تھے۔صدور کی ٹیلی فون کالز عموما مختلف محفوظ لائنزکے تحت کی اور وصول کی جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…