جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

افطاری اور سحری میں انواع اقسام کے کھانے کھانا اور کھلانا کیسا ہے؟سعودی مفتی اعظم نے اہم سوال کا جواب دیدیا

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

ریاض(آئی این پی )سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے روزہ افطار کرانے والے حضرات کوخبردار کیا ہے کہ وہ افطاری میں فضول خرچی سے سختی سے اجتناب کریں کیونکہ یہ اسراف تقوی کے خلاف ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اپنے ایک بیان میں سعودی مفتی اعظم نے کہا کہ ماہ صیام کے دوران مخیر حضرات روزہ داروں کی افطاری، سحری اور انہیں انواع اقسام کے کھانے کھلانے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے آنے والے اللہ کے مہمانوں کی افطاری اور ضیافت بلا شبہ بڑے اجرو ثواب کا کام ہے مگر بہت سے لوگ افطاری میں اسراف سے کام لیتے ہیں۔ ایسے احباب

جو افطاری اور سحری کی خدمات فراہم کرنے میں اسراف سے کام لیں انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ فضول خرچی سے پرہیز کریں کیونکہ فضول خرچی اور اسراف تقوی کے خلاف ہے۔خیال رہے کہ ماہ صیام کے دوران سعودی عرب سمیت مسلمان ممالک میں لوگ روزہ داروں کی افطاری کے مشاغل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مساجد میں روزہ داروں کی اجتماعی افطاریوں کے اہتمام کے دوران طرح طرح کے ماکولات و مشروبات پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرح بہت سا کھانا ضائع ہوجاتا ہے، اسراف کے زمرے میں آتا ہے۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا ہے کہ افطاری میں اسراف روزے کی تعلیمات اور تقوی کی شان کے خلاف ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…