اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

پاؤں سے بدبو کیوں آرہی ہے؟ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہری کالرزہ خیز اقدام

datetime 12  مارچ‬‮  2017 |

ابوظہبی(آن لائن) متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے ایک پاکستانی الیکٹریشن نے معمولی بات پر مشتعل ہوکر اپنے ہی ہم وطن کا گلا کاٹ ڈالا۔ غیر ملکی میڈیاکے مطابق22 سالہ پاکستانی الیکٹریشن اور اس کا ساتھی دوپہر کے وقفے کے دوران آرام کے لئے کمرے میں گئے تھے۔لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے پتہ چلا کہ دونوں میں شدید لڑائی ہوئی تھی۔ ساتھی محنت کشوں نے مداخلت کرکے لڑائی رکوائی لیکن چند لمحے بعد ہی 22 سالہ

ملزم نے اپنے ہم وطن محنت کش پر حملہ کرکے اس کا گلا کاٹ ڈالا۔ ملزم نے پولیس کو بتایاکہ جب وہ آرام کے لئے لیٹے تو اس کے ساتھی نے اپنے پاؤں اس کے منہ کے سامنے رکھ دئیے، جن سے شدید بدبو آرہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے ساتھی کو پاؤں پیچھے کرنے کو کہا مگر اس نے بات نہ مانی جس پر دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ملزم قریبی ویئر ہاؤس گیا اور وہاں سے ایک تیز دھار استرا اٹھالایا جس کے ساتھ اپنے ہم وطن محنت کش کا گلا کاٹ ڈالا۔ خون میں لت پت نوجوان کو فوری طور پر ہسپتال لیجایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ ملزم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے ساتھی محنت کش کو ہلاک نہیں کرنا چاہتا تھا جن سے شدید بدبو آرہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے ساتھی کو پاؤں پیچھے کرنے کو کہا مگر اس نے بات نہ مانی جس پر دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ملزم قریبی ویئر ہاؤس گیا اور وہاں سے ایک تیز دھار استرا اٹھالایا جس کے ساتھ اپنے ہم وطن محنت کش کا گلا کاٹ ڈالا۔ خون میں لت پت نوجوان کو فوری طور پر ہسپتال لیجایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ ملزم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے ساتھی محنت کش کو ہلاک نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ مشتعل ہوکر حملہ کر بیٹھا جو جان لیوا ثابت ہوا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…