منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

ایران اور ترکی آمنے سامنے،شدید کشیدگی،اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کااعلان

datetime 22  فروری‬‮  2017 |

تہران/انقرہ (آئی این پی)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے ترکی کے خلاف تندوتیز بیان کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی، دونوں نے شام میں جاری بحران اور مشرق وسطی میں کردار کے حوالے سے ایک دوسرے کے خلاف سخت الزام تراشی کی ہے۔ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو جرمنی میں منعقدہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اختتام ہفتہ پر اپنی تقریر کے دوران میں ایران پر برس پڑے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے بعض اقدامات سے خطے میں سلامتی کو نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے ایران پر زوردیا تھا کہ وہ خطے میں استحکام کو فروغ دے۔ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ ایران شام اور عراق کو شیعہ ریاستیں بنانا چاہتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایران پر ”فارسی قومیت پرستی” کو فروغ دینے کا الزام عاید کیا تھا جس نے ان کے بہ قول مشرقِ وسطی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ میں تہران میں متعین ترک سفیر کو طلب کیا گیا تھا اور ان سے وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو کی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں مذکورہ تقریر پر احتجاج کیا گیا تھا۔وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے بعد میں نیوزکانفرنس میں ترکی کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ”تہران کے صبر کی بھی حدود ہیں”۔ بہ الفاظ دیگر ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ترکی کی جانب سے ناقدانہ بیانات پر صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ آیندہ اس طرح کے بیانات کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔اگر ہمارے ترک دوست اس طرح کا رویہ جاری رکھیں گے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حسین مفتی اوغلو نے اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ تہران کی جانب سے اس طرح کے الزامات کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انھوں نے ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ اس کو علاقائی بحرانوں اور جنگ زدہ علاقوں کے مہاجرین پر پل پڑنے میں بھی کوئی تردد نہیں ہوتا ہے۔ترک ترجمان نے کہا کہ ایران کو خود پر تنقید کرنے والے ممالک پر الزام تراشی کے بجائے تعمیری اقدامات کرنے چاہییں اور اپنی علاقائی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ایران اور ترکی کے درمیان ویسے تو صدیوں سے مخاصمت رہی ہے اور دونوں علاقائی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف سفارتی اور سیاسی محاذوں کے علاوہ بعض اوقات میدان جنگ میں بھی مدمقابل آتی رہی ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور ایران نے گذشتہ سال صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد ان کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…