منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاون

datetime 18  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے،نو سوڈانی شہری ریاست نیو یارک کی سرحد پار کر کے کینیڈا میں داخل ہو گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم ایک سوڈانی خاندان کریک ڈائون سے بچنے کے لیے ریاست نیویارک کی سرحد عبور کرکے کینیڈا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیویارک بارڈر پیٹرولنگ اہلکاروں نے جب ایک کار کو رکنے کا اشارہ کیا تو اس میں سوار آٹھ افراد جن میں چار بچے بھی شامل تھے ،گاڑی سے اترنے کے بعد بھاگتے ہوئے سرحد پار کرکے کینیڈا میں داخل ہوگئے جہاں کینیڈین بارڈر اہلکاروں نے نہ صرف انہیں مدد فراہم کی بلکہ ان سے طبی امداد کا بھی پوچھا ۔دوسری جانب گاڑی کے ڈرائیور نے دوران تفتیش امریکی اہلکار کے ہاتھ سے اچانک پاسپورٹ چھین لیے اور کینیڈین بارڈر کی جانب دوڑ لگادی ۔۔اس سے قبل کہ امریکی اہلکار سے روکتا یا پکڑنے میں کامیاب ہوتا وہ شخص بھی کینیڈا میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔کینیڈین بارڈر فورس کے اہلکاروں نے اس سوڈانی خاندان کو قریبی واقع دفتر پہنچادیاجہاں پناہ گزینی کے لیے ان کی درخواست دائر کی جائے گی ۔خبر ایجنسی کے مطابق یہ سوڈانی خاندان دو سال سے غیر قانونی طور پر امریکا میں ا?باد تھا اور ٹرمپ کی جانب سے تارکین وطن افراد کے خلاف کریک ڈائون سے بچنے کے لیے کینیڈا روانہ ہوا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…