بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے تباہ کن ایٹمی شہر کی تعمیر شروع کر دی خطے کے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئی

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے جنوبی ایشیاء کے کروڑوں معصوم عوام کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ کرناٹک میں تباہ کن نیوکلیئر تھرمو بم بنانے کے لیے پورا ایٹمی شہر تعمیر کر دیا۔ نیوکلر تھرمو بم ایٹم بم سے بھی دوگنی تباہی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی ایٹمی ماہرین نے منصوبے کو خطے کے امن کے لیے تباہ کن قرار دے دیا۔بھارت نے خفیہ ایٹمی شہر کی تعمیر کا آغاز 2012 میں

یا، کرناٹک شہر میں 27 کلومیٹر رقبہ راتوں رات آمدورفت کے لیے ممنوع قرار دے دیا گیا، علاقہ مکین دربدر ہوئے پھر راز کھلا کہ یہاں خطرناک ترین ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے پورا شہر آباد ہو چکا ہے۔ اس خفیہ ایٹمی مرکز میں تھرمو نیوکلر بم بنانے کے لیے دن رات تجربات ہوتے ہیں، ایسا بم جو ایٹم بم سے بھی دوگنا زیادہ تباہی لا تا ہے۔ منصوبے کو پراسرار رکھنے کے لیے وسیع رقبے پر 15 فٹ اونچی دیوار بنائی گئی ہے، اس دیوار کے پیچھے اب کروڑوں لوگوں کو پل بھر میں موت کی نیند سلانے کے لیے خطرناک ترین ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔سٹیلائیٹ کے ذریعے اس خفیہ منصوبے کی تصاویر بھی منظرعام پر آ چکیں، عالمی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کا یہ خفیہ ایٹمی منصوبہ پورے خطے کے امن کے لیے تباہ کن ہے لیکن عالمی طاقتیں اب بھی آنکھیں کھولنے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف بھارت کے ایٹمی مواد کی حفاظت کے نظام پر عالمی ادارے کئی بار تحفظات کا اا ظہار کر چکے اور ایران اور شمالی کوریا کے بعد اسے ناقص ترین قرار دیا جا چکا۔زیرزمین ایٹمی تجربات سے کرناٹک کے پورے علاقے میں پانی مکمل طور پر خشک ہو چکا ہے اور ہر طرف خشک سالی ہے اور اس کی وجہ سے بھوک کے ڈیرے ہیں۔ پانی نہ ہونے پر زمین نے فصل پیدا کرنا چھوڑ دی اور 101 کسان اب تک خودکشی کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…