ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں روس اور ایران کیا کررہے ہیں؟امریکی جنرل نے سنگین الزام عائد کردیا

datetime 11  فروری‬‮  2017 |

کابل (آئی این پی)افغانستان میں تعینات امریکی اور عالمی فوج کے کماندار جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر مکمل نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور عین ممکن ہے کہ اس جائزے سے امریکہ کو اس تکلیف دہ اتحاد کے لیے کسی نئی حکمتِ عملی کی راہ مل جائے۔جنرل نکلسن نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے پیچیدہ رشتوں کے بارے میں بہترین نتیجے پر ایک مکمل جائزے کے بعد ہی پہنچا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جیمز میٹیس اور وائٹ ہاس کے ساتھ ان کی جو بات چیت ہو گی اس میں پاکستان کے ساتھ رشتوں پر بات کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ افغانستان میں عالمی اور امریکی فوج کی قیادت کرنے والے امریکی جنرل جان نکلسن کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے تئیں سخت پالیسیاں اپنا سکتی ہے۔ اس سے قبل افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فوجوں کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ انھیں طالبان کے ساتھ جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے مزید چند ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔جنرل جان نکلسن نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ ان کے پاس انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے کافی فوجیں ہیں۔تاہم انھوں نے زور دیا کہ انھیں افغان فوج کہ تربیت میں مدد کے لیے اضافی فوجی درکار ہیں۔ انھوں نے روس اور ایران پر افغانستان میں نیٹو کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔جمعرات کو سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے جنرل نکلسن نے کہا کہ ہمیں چند ہزار کی کمی کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کے سامنے رکھ چکے ہیں۔امریکہ کی طالبان کے خلاف جنگی آپریشن سنہ 2014 میں باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوگئے تھے تاہم خصوصی فوجی دستوں کی جانب سے افغان فوجیوں کو مدد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ افغان فوجوں کو گذشتہ دو برسوں میں بھاری جانی نقصان کا سامنا رہا ہے۔

جنرل نکلسن نے ملک کی حالیہ صورتحال کو جنگی توقف کے طور پر بیان کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیمانہ حکومت کے حق میں ہے۔انھوں نے بیرونی عناصر خاص طور پر روس، پاکستان اور ایران کے اثرورسوخ کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اثرورسوخ کے باعث طالبان کی مدد اور انھیں قانونی حیثیت دی جارہی ہے اور افغانستان میں استحکام کے لیے افغان کوششوں کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…