پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

ورلڈ ٹرید سینٹر پر حملہ کس نے کروایا ؟ جیل سے لکھا گیا خالد شیخ کا خط منظر عام پر ۔۔39بار کس کا نام لیا ؟ دھماکہ خیز انکشافات

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کو خط لکھ کر امریکہ کو ہی اس حملہ کا مورد الزام ٹھہرادیا۔18صفحات پر مشتمل یہ خط جنوری 2015 میں تحریر کیا گیا تھا لیکن ایک فوجی جج کے حکم کے بعد یہ خط

اوباما کی صدارت کے آخری دنوں میں گوانتانامو جیل سے وائٹ ہاؤس بھیجا گیا۔خالد شیخ محمد نے اپنے خط میں صدر اوباما کو ’سانپوں کا سردار‘ قرار دیا کہا کہ وہ ایک ’جابر ملک کے حکمران ہیں۔کویت میں پیدا ہونے والے پاکستانی خالد شیخ محمد نے اپنے خط میں امریکہ کی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کی جانے والی مداخلت کی نشاندہی کی ہے لیکن ان کی خاص توجہ پاکستان پر تھی۔اس خط میں انھوں نے اسرائیل کو بالخصوص نشانہ بنایا اور 39 بار اس کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ 12 مرتبہ انھوں نے اسامہ بن لادن کا بھی تذکرہ کیا۔خالد شیخ کی سزائے موت کا دفاع کرنے والے اٹارنی ڈیوڈ نیون نے کہا کہ ‘القاعدہ کے سابق آپریشن چیف نے یہ خط غزہ میں تشدد اور مقبوضہ علاقوں کے تناظر میں لکھا۔’واضح رہے کہ خالد شیخ محمد ان پانچ افراد میں شامل ہیں جن پر گوانتانامو وار کورٹ میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور ان پر 11 ستمبر 2001 میں طیارہ ہائی جیک کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے اور اگر ان پر یہ جرم ثابت ہوجاتا ہے تو

انھیں موت کی سزا دیے جانے کا امکان ہے۔جیل حکام نے یہ خط وائٹ ہاؤس پہنچانے سے انکار کر دیا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے ان کے اس اقدام کی حمایت کی اور ان کا کہنا تھا کہ اسے بطور پروپیگینڈا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ستمبر 2015 میں پینٹاگون کی طرف سے دیے گئے خالد شیخ محمد کے وکلا نے دلائل پیش کیے کہ پہلی ترمیم کے مطابق

ان کے موکل کے پاس صدر اوباما کو درخواست دینے کا حق ہے۔آرمی کے جج نے جب تک اس بارے میں فیصلہ سنایا کہ خالد شیخ محمد کا خط اوباما کو بھیجا جا سکتاہے، اس وقت تک ان کا دورِ صدارت ختم ہونے والا تھا اور عوام کے سامنے یہ خط نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں سامنے آیا۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…