ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ورلڈ ٹرید سینٹر پر حملہ کس نے کروایا ؟ جیل سے لکھا گیا خالد شیخ کا خط منظر عام پر ۔۔39بار کس کا نام لیا ؟ دھماکہ خیز انکشافات

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کو خط لکھ کر امریکہ کو ہی اس حملہ کا مورد الزام ٹھہرادیا۔18صفحات پر مشتمل یہ خط جنوری 2015 میں تحریر کیا گیا تھا لیکن ایک فوجی جج کے حکم کے بعد یہ خط

اوباما کی صدارت کے آخری دنوں میں گوانتانامو جیل سے وائٹ ہاؤس بھیجا گیا۔خالد شیخ محمد نے اپنے خط میں صدر اوباما کو ’سانپوں کا سردار‘ قرار دیا کہا کہ وہ ایک ’جابر ملک کے حکمران ہیں۔کویت میں پیدا ہونے والے پاکستانی خالد شیخ محمد نے اپنے خط میں امریکہ کی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کی جانے والی مداخلت کی نشاندہی کی ہے لیکن ان کی خاص توجہ پاکستان پر تھی۔اس خط میں انھوں نے اسرائیل کو بالخصوص نشانہ بنایا اور 39 بار اس کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ 12 مرتبہ انھوں نے اسامہ بن لادن کا بھی تذکرہ کیا۔خالد شیخ کی سزائے موت کا دفاع کرنے والے اٹارنی ڈیوڈ نیون نے کہا کہ ‘القاعدہ کے سابق آپریشن چیف نے یہ خط غزہ میں تشدد اور مقبوضہ علاقوں کے تناظر میں لکھا۔’واضح رہے کہ خالد شیخ محمد ان پانچ افراد میں شامل ہیں جن پر گوانتانامو وار کورٹ میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور ان پر 11 ستمبر 2001 میں طیارہ ہائی جیک کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے اور اگر ان پر یہ جرم ثابت ہوجاتا ہے تو

انھیں موت کی سزا دیے جانے کا امکان ہے۔جیل حکام نے یہ خط وائٹ ہاؤس پہنچانے سے انکار کر دیا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے ان کے اس اقدام کی حمایت کی اور ان کا کہنا تھا کہ اسے بطور پروپیگینڈا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ستمبر 2015 میں پینٹاگون کی طرف سے دیے گئے خالد شیخ محمد کے وکلا نے دلائل پیش کیے کہ پہلی ترمیم کے مطابق

ان کے موکل کے پاس صدر اوباما کو درخواست دینے کا حق ہے۔آرمی کے جج نے جب تک اس بارے میں فیصلہ سنایا کہ خالد شیخ محمد کا خط اوباما کو بھیجا جا سکتاہے، اس وقت تک ان کا دورِ صدارت ختم ہونے والا تھا اور عوام کے سامنے یہ خط نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں سامنے آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…