بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’میں لوگوں سے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ لیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ نوجوان لڑکی نے ایسا کام شروع کردیا جو دنیا کی تاریخ میں کسی نے نہ کیا۔۔۔جان کر آپ بھی حیران ہو جائیں گے

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بستر گرم کرنا ہی میرا کام ہے، 21سالہ وکٹوریہ ماہانہ لاکھوں روپے انوکھا کام کرکے کمانے لگی، تفصیلات کے مطابق سرد موسم میں ٹھنڈے بستر میں گھسنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں، لیکن روسی لڑکی وکٹوریہ ایواشووا نے یہ مسئلہ بھی حل کردیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق 21 سالہ وکٹوریہ کا کام ہی لوگوں کے بستر گرم کرنا ہے۔

وہ اپنی فیس وصول کرنے کے بعد ایک گھنٹے کے لئے بستر میں لیٹتی ہے اور اسے خوب گرم کرنے کے بعد مالک کے حوالے کرکے مسکراتی ہوئی رخصت ہوجاتی ہے۔ ایک رات کے لئے بستر گرم کروانے کی فیس 65 پاؤنڈ (تقریباً 9ہزار پاکستانی روپے) ہے جبکہ پورے مہینے کے لئے اس کی خدمات حاصل کرنے کے لئے فیس 1350 پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔وکٹوریہ کا کاروبار شروع ہوتے ہی کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگا ہے اور ان کے پاس بستر گرم کروانے والے کسٹمرز کی قطاریں لگ گئی ہیں۔ وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ ڈیمانڈ اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ اب وہ نوجوان لڑکیوں کی ایک ٹیم بھرتی کررہی ہیں جو بستر گرم کرنے کی خدمات فراہم کریں گی۔وکٹوریہ نے بتایا کہ جب وہ بستر گرم کررہی ہوتی ہیں تو کسٹمر کمرے میں موجود رہ سکتا ہے لیکن ان کے ساتھ بستر میں داخل نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی قسم کی ناپسندیدہ صورتحال سے بچنے کے لئے وہ اپنے ساتھ سکیورٹی گارڈ کو بھی رکھتی ہیں تاکہ اگر کوئی کسٹمر شرارت کرے تو اسے سبق سکھایا جاسکے۔

وکٹوریہ کے مطابق اس نے یہ کام روسی مصنف اناتولی ماریان گوف کا ایک ناول پڑھنے کے بعد کیا۔ اس ناول کا ایک کردار سرگی ییسنین نامی شاعر ہے جو ایک خاتون ٹائپسٹ کو روزانہ کچھ رقم دے کر اس سے اپنا بستر گرم کرواتا ہے۔ وکٹوریہ کا کہنا ہے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ اتنا مقبول ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…