اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

برطانیہ، روس، آزذر بائیجان اور دیگر ممالک کے بعدکس عرب ملک نے شمولیت کی خواہش کر دی؟

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ مصر نے پاک چین اقتصادی راہداری میں شمولیت اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ مصر کی اس تجویزسے اس اقتصادی راہداری کے معاشی ثمرات افریقہ ، یورپ اور مشرق وسطی تک پہنچیں گے ۔ سپیکر نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے اُمت مسلمہ کو یکجاکرنے کے لیے ’’ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر ‘‘

کا جو نظریہ پیش کیا تھا اب اس کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار صحافیوں سے گفتگوکرنے ہوئے کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو مصر کے پاکستان میں متعین سفیر Mr. Sherif Shaheen ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاوس میں تشریف لائے تھے ۔ ملاقات کے دوران مصری سفیر نے پاک چین اقتصادی راہداری میں حصہ لینے کی تجویز پیش کی جو کہ خوش آیندہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز سے اقتصادی ترقی کی راہیں کھلیں گی جس سے براستہ پاکستان کم قیمت اور محفوظ ترین تجارتی راستوں کے ذریعے چین سے افریقہ تک تجارت ممکن ہو سکے گی ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے مصر کی اس تجویز کو سراہتے ہو ئے کہا کہ حقیقی طور پرخطے میں سی پیک کے منصوبے سے معاشی انقلاب کی نئی جہتیں کھلیں گی ۔ چین سے مصر کی تجارتی منڈیوں سمیت یورپ اور افریقہ تک تجارتی رسائی حاصل کرنے کے لیے مہینوں بحیرہ عرب ، بحیرہ احمر اور بحیرہ روم میں سفر کرنا پڑتا تھا ، اب سی پیک کے ذریعے یہ راستہ دنوں میں اپنا سفر مکمل کر لے گا۔ سردار ایاز صادق نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر سمیت مشرق وسطی کے دیگر ممالک کو بھی خوشحالی کی اس راہداری سے مستفید ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مصر کے اس منصوبے میں شاملہونے سے اقتصادی خوشحالی ، مشترکہ ترقی اور علاقائی رابطوں کو بڑھانے کی نئی قندیلیں روشن ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…