پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

بڑے اسلامی ملک میں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین کیلئے شاندار خوشخبری خبر ررساں ادارے کی رپورٹ

datetime 13  دسمبر‬‮  2016 |

دوحہ (آئی این پی )قطر نے غیر ملکی ملازمین کیلئے ملک چھوڑنے یا ملازمت تبدیل کرنے کے لیے اپنے مالکان سے پہلے اجازت لینے کے کفالت کے نظام کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق قطری حکومت کا کہنا ہے کہ کفالہ نظام کی جگہ کنٹریکٹ کا قانون لایا جائے گا جس میں ملازمین کے لیے نرمی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے باوجود یہ نظام ایسے ہی اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کفالہ نظام کو جدید دور کی غلامی قرار دیتے ہیں۔قطر نے 2022 کے فٹبال عالمی مقابلوں کے لیے تعمیراتی کاموں کی غرض سے سینکڑوں ہزاروں غیر ملکی مزدور بلوائے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان مزدوروں میں سے بہت سے کام کرنے کے لیے سخت اور مشکل حالات کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔قطر کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون منگل کے روز سے فعال ہو جائے گا۔
حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی قانونی تبدیلیوں کے تحت نہ صرف قطر نہیں بلکہ اس جیسے دیگر ممالک میں بھی مزدوروں کے حقوق کے احترام کو یقینی بنانے میں مددگار ہوں گی۔تاہم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔تنظیم کے جیمز لنچ نے اس قانون کے حوالے سے کہا کہ اس نئے قانون سے شاید کفالت کا لفظ ختم ہو جائے لیکن بنیادی نظام اپنی جگہ برقرار رہے گا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غیر ملکی مزدوروں کے لیے پھر بھی ملک چھوڑنے کے لیے اپنے مالکان سے اجازت لینا ضروری ہوگی۔اس سے قبل رواں سال ہی ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے قطر پر 2022 کے عالمی کپ کی تیاریوں کے لیے جبری مشقت کا الزام لگایا تھا۔قطر نے اس حوالے سے کہا تھا کہ اسے ان الزامات پر تشویش ہے اور وہ ان کی تحقیقات کر ے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…