پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

حیران کن پیش گوئی،معمرقذافی نے مرنے سے قبل جو کہاتھاآخرکار ہوہی گیا؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لندن(نیوزڈیسک) برطانوی خارجہ امور کمیٹی نے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور معمر قذافی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا متن شائع کیا ہے جس میں معمر قذافی نے جنگجو تنظیم داعش کے قیام اور خطے میں ہونے والی بڑی تباہ کاریوں سے ٹونی بلیئر کو آگاہ کیا تھا۔برطانیہ میں امورِ خارجہ کمیٹی نے برطانیہ کی دیگر ممالک میں مداخلت کی تحقیقات کرتے ہوئے 25 فروری 2011 کو ٹونی بلیئر اور لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا متن شائع کیا ہے جس معمر قذافی نے ٹونی بلیئر پر الزام عائد کیا تھا کہ جب انہوں نے عرب اسپرنگ نامی سماجی اور سیاسی بغاوت کے بعد اقتدار چھوڑنے سے انکار کردیا تو بلیئر نے القاعدہ سے تعاون کیا تھا تا کہ ان کا اقتدار ختم کردیا جائے۔گفتگو کے متن کے مطابق دوسری کال میں دونوں رہنماو¿ں کے درمیان قدرے تلخ باتیں ہوئیں جس پر معمر قذافی نے برطانیہ پر الزام لگایا کہ وہ لیبیا کو دوبارہ کالونی بنانا چاہتا ہے جب کہ معمر قذافی نے ٹونی بلیئر سے کہا کہ ہمیں اکیلا چھوڑ دیا جائے یا پھر اگر آپ مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں تو ہم سے ملاقات کریں۔معمر قذافی کا کہنا تھا کہ لیبیا میں آنے والے باغی گوانتا نامو بے کی قید خانے سے آئے ہیں اور ہم انہیں نام سے جانتے ہیں وہ القاعدہ کی تائید کرتے ہیں اور کیا آپ القاعدہ اور دہشت گردی کی حمایت کررہے ہیں جس کے جواب میں ٹونی بلیئر نے کہا کہ قذافی کو کہا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائین۔معمر قذافی کے سوالات پر بلیئر نے یہ بھی کہا کہ وہ لیبیا میں پیش آنے والی صورتحال میں ملوث نہیں لیکن انہوں نے قذافی کو خبردار کیا کہ تشدد بڑھنے سے ان کی واپسی کا راستہ بند ہوجائے گا اس لیے انہیں (قذافی) کو چاہیے کہ وہ اپنے راستے کھلے رکھیں۔لیبیا کی صورتحال پر کرنل قذافی کی افواج نے جمہوریت کی حمایت میں جمع مظاہرین پر گولیاں چلادی تھیں جس سے کئی افراد ہلاک ہوئے تھے اور اقوامِ متحدہ میں اس کے خلاف ایک قرار داد بھی پیش کی گئی تھی جس کے بعد اقوامِ متحدہ نے قذافی کے اثاثے منجمند کرنے کا اعلان کیا تھا اور لیبیا کے جنگی جرائم بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔برطانیہ نے لیبیا کی سمندری حدود کو بند کرنے اور نو فلائی زون کے قیام میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا جب کہ جنگ شروع ہونے کے دو ماہ بعد باغیوں نے ایک مقام پر چھپے ہوئے قذافی کو نکال کر انہیں قتل کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…