اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ترکی میں بغاوت کے بعد گرفتار ہونیوالوں کے ساتھ کیا سلوک کیاجارہاہے ؟ہیومن رائٹس واچ کالرزہ خیز دعویٰ

datetime 26  اکتوبر‬‮  2016 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک )انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد جاری ہونے والے نئے ہنگامی حکمنامے کے زیر حراست افراد پر تشدد کیا جا رہا ہے، گرفتا ر افراد کو سونے نہیں دیا جاتا ، نازک اعضا کو متاثرکیا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابقانسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی میں جولائی میں ناکام بغاوت کے بعد جاری ہونے والے نئے ہنگامی حکمنامے کو زیر حراست افراد پر تشدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں تنظیم نے ان حکمناموں کے تحت پولیس کی طرف سے 13 ایسے مختلف مبینہ واقعات کا تذکرہ کیا۔ جن میں ہنگامی حکمناموں سے سرکای حکام کو اپنی کارروائیوں پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے یورپ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر ہیو ولیمسن نے کہا ہے کہ تشدد کے خلاف حفاظتی انتظامات کو ہٹائے جانے سے ترک حکومت نے موثر طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلا اختیار دے دیا ہے کہ زیر حراست افراد پر جس طرح سے چاہیں سلوک کریں اور تشدد کریں۔ رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات میں کہا گیا کہ قیدیوں کو انتہائی تکلیف دہ حالت میں رکھا جاتا ہے، مار پیٹ کی جاتی ہے، انھیں سونے نہیں دیا جاتا اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ ایک ایسا کیس بھی سامنے آیا کہ جس میں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار نے زیر حراست شخص سے کہا ہنگامی حالت کی وجہ سے اگر اسے مار بھی دیا جائے تو کسی کو پرواہ نہیں ہو گی۔ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے زیر حراست رہنے والے ایک اور شخص نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ پولیس عہدیدار نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور خاص طور پر نازک اعضا کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔تنظیم نے ترک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حکمنامے کو واپس لے جس کے تحت پولیس کسی بھی شہری کو عدالت میں پیش کیے بغیر 30 دن تک حراست میں رکھ سکتی ہے اور ایسے افراد کو پانچ روز تک کوئی قانونی معاونت بھی حاصل نہیں ہوگی تاہم ترکی کی حکومت نے تاحال اس رپورٹ پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…