اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

فرانس میں نقاب پر پابندی کی خلاف ورزی پر 1174چالان

datetime 22  اکتوبر‬‮  2016 |

پیرس(این این آئی)فرانس میں حکام کے شدید دباؤ کے باوجود الجزائری سیاسی کارکن اور تاجر رشید نکاز کی جانب سے ملک میں نقاب پہننے والی خواتین پر عائد جرمانوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے۔جرمانوں کی ادائیگی کرنے والے رشید نکازنے کہاہے کہ وہ پیر کو فرانس کے مشرق میں واقع علاقے ووباش کا رخ کریں گے تاکہ نقاب پہننے والی خواتین کی طرف سے مجموعی طور پر 1174 واں چالان ادا کریں۔واضح رہے کہ رشید نکاز 2013 میں فرانسیسی شہریت سے دست بردار ہو گئے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رشید نکاز چند روز قبل ملک کے شمال میں فرانسیسی وزیر داخلہ برنر کیزنوو کے انتخابی حلقے میں گئے تھے جہاں انہوں نے نقاب پہننے والی ایک خاتون کی طرف سے جرمانے کی ادائیگی کی۔ اس موقع پر فرانسیسی میڈیا بھی ان کے ساتھ تھا تاکہ رشید نکاز کی طرف سے وزیر داخلہ کو چیلنج کیے جانے کا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جاسکے۔رشید نکاز گزشتہ اتوار کے روز تک مجموعی طور پر 1173 جرمانوں کے چالان بھر چکے ہیں جن میں ہر چالان کی مالیت 200 یورو ہے۔ اس طرح وہ اب تک نقاب پہننے والی خواتین کی طرف سے جرمانے کی مد میں 234600 یورو ادا کر چکے ہیں.. ان میں اکثریت یورپی ناموں کی حامل فرانسیسی شہریت رکھنے والی خواتین کی ہے۔رشید نکاز نے بیان میں بتایا کہ وزیر داخلہ مجھے ذاتی طور پر نشانہ بنانے کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ قانون میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ میں 6 ماہ کے لیے جیل چلا جاؤں اور اس کے علاوہ مجھ پر 45 ہزار یورو جرمانہ عائد کر دیا جائے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں نقاب لگانے والی ان خواتین کی طرف سے جرمانوں کی ادائیگی کرتا ہوں جو اس نوعیت کا لباس پوری آزادی سے پہنتی ہیں۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر نقاب پہننے کے عمل کو مسترد کرتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں انسانی حقوق کے لیے دنیا بھر میں مہم چلانے والوں میں سے ہوں اور میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اسے (نقاب پہننے پر پابندی) کو قبول کر لوں.. اور نہ میں یہ قبول کر سکتا ہوں کہ حکومت اسلاموفوبیا کو شہریوں کے ایک مخصوص طبقے پر روک لگانے کے لیے استعمال کرے”۔ رشید نکاز کے مطابق انہوں نے جرمانے کی ادائیگی کے لیے وزیر داخلہ کے شہر کا رخ کیا تو 11 پولیس اہل کاروں نے انہیں ٹرین میں سوار ہونے سے روک دیا۔ پولیس نے انہیں 11 گھنٹوں تک روکے رکھا اور اس کے بعد رہا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…