اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’جمعے کے دن بڑی خبر‘‘ داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی فرار ہو گیا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کے شمالی شہر موصل کو دولت اسلامی ’داعش‘ کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے چند روز سے جاری فوجی آپریشن کے بعد داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کے بارے میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ ابو بکرالبغدادی موصل ہی میں ہیں جہاں وہ خود جنگ کی قیادت کررہے ہیں۔ ایک قیاس یہ ہے کہ وہ شام کے شہر الرقہ کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دوسری قیاس آرئیاں اور افواہیں بھی گردش میں ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق البغدادی کو آخری بار ستمبر 2016ء4 میں دیکھا گیا تھا۔ وہ موصل میں بمباری سے بچنے کے لیے ایک خفیہ ٹھکانے سے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ نکل کر کسی دوسرے مقام کی طرف جانے کی کوشش کررہا تھا۔ عراق اور شام کی شمالی سرحد سے کئی مقامات پر دونوں ملکوں میں آمد ورفت کے راستے موجود ہیں۔ موصل کے مشرق، مغرب اور جنوب میں داعش کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے جنگجو آسانی کے ساتھ عراق اور شام میں آ جا سکتے ہیں۔موصل سے شام کی طرف فرار کے تین ممکنہ راستے ہوسکتے ہیں۔ یا تو البعاج اور اس کے آس پاس سے گذرکر شام میں داخل ہوا جائے ورنہ حضر اور اس کے مضافات بھی دونوں ملکوں کی سرحد کو ملانے میں اہمیت کے حامل ہیں۔ تیسرا مقام جہاں سے دونوں ملکوں میں آمد ورفت ممکن ہے وہ تلعفر ہے۔ تلعفر الرقہ اور موصل کے درمیان آمد ورفت کا سب سے مختصر راستہ ہے۔ مگر اس راستے سے بھی گاڑی ساڑھے چھ گھنٹے میں موصل سے الرقہ پہنچ سکتی ہے۔اگر بغدادی تلعفرکے راستے سے شام میں داخل ہوئے ہیں تو انہیں القحطانی سے گذر کر شام کی سرحد میں داخل ہونے اور وہاں سے الرقہ میں داعش کے مرکز تک پہنچے میں 506 کلو میٹر کی مسافت کم سے کم 7 گھنٹوں میں طے کرنا پڑے گی۔
الحضر کے راستے سے شام میں جانے کے لیے زیادہ مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔ گویا ایک گھنٹہ 38 منٹ کی اضافی ڈرائیونگ کے بعد کل 537 کلو میٹر فاصلہ طے کرکے الرقہ پہنچا جاسکتا ہے۔الحضر شہر سے الرقہ تک ایک اور روٹ بھی ہے جو بیجی سے گذر کر الحدیثہ، پھر القائم، اس کے بعد شام کا المیادین، دیر الزور اور آخر میں الرقہ تک پہنچتا ہے۔ یہ روٹ زیادہ لمبا ہے جس کی مسافت 702 کلو میٹر ہے اور اسے عبور کرنے کے لیے 10 گھنٹے کا وقت درکار ہے۔تیسرا روٹ البعاج کا ہے جو الحضر سے متصل شہر ہے۔ یہ شہر القائم کی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔ ان دونوں کے درمیان شام میں البوکمال اور دریائے فرات کا فاصلہ ہے۔البعاج سے شام میں داخل ہونے کے دو راستے ہیں۔ایک شمالی روٹ سے 473 کلو میٹر کا فاصلہ چھ گھنٹے اور قریبا 36 منٹ ہے۔ جنوبی راستہ لمبا ہے جو بعاج شہر سے بوکمال وہاں سے دیر الزور اور آخر میں الرقہ تک پہنچتا ہے۔ یہ قریبا 605 کلو میٹر راستہ ہے اور اسے قطع کرنے کے لیے پونے نو گھنٹے درکار ہیں۔ضروری نہیں کہ البغدادی الرقہ ہی میں رکیں۔ وہ داعش کے زیرقبضہ کسی بھی دوسرے شہر بالخصوص الحسکہ اور دیر الزور میں بھی رہ سکتے ہیں کیونکہ ان شہروں میں بھی داعش کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں۔موصل شہر اور الرقہ کے درمیان ایک مختصر راستہ بھی ہے جو الحسکہ سے موصل اور الرقہ کو ملاتا ہے۔ یہ قریبا 276 کلومیٹر کا راستہ ہے اور تیز رفتار کار پونے چار گھنٹے میں یہ مسافت طے کرسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…