جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ اس وقت ہمارے ساتھ یہ کام کرنے میں مصروف ہے بھارت نے ایک بار پھر زار و قطار رونا شروع کر دیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ’دہشت گردی کی فیکٹری‘ بند کردینی چاہیے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مدد کی بھی پیشکش کردی۔چندی گڑھ میں ریجنل ایڈیٹرز کانفرنس سے خطاب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت پاکستانی عوام کے خلاف نہیں لیکن پاکستانی حکومت سے مسئلہ ہے جس نے ’دہشت گردی کو پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے‘۔راج ناتھ سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا میں بھی تنہا ہوکر رہ گیا ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں اسلام آباد کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس سے قبل اسلام آباد کو دہشت گردی کی فیکٹری بند کرنی ہوگی جبکہ ایسا کرنے سے ترقی کی راہیں کھلیں گی اور جنوبی ایشیا میں امن قائم ہوگا‘۔بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پیش بندی کے طور پر کی جانے والی کارروائی تھی اور بھارت پاکستانی عوام کے حوالے سے کوئی بری نیت نہیں رکھتا۔راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحد 2018 تک مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ 181.85 کلو میٹر کا سرحدی علاقہ ایسا ہے جہاں طبعی طور پر سرحد پر رکاوٹیں نہیں لگائی جاسکتیں کیوں کہ یہ ساحلی، کریک اور دلدلی علاقے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے علاقوں میں کیمروں، سینسرز، ریڈارز، لیزرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جائے گی ۔بھارتی وزیر داخلہ نے بتایا کہ انڈین بارڈر سیکیورٹی فورس جموں، پنجاب اور گجرات میں اس حوالے سے دستیاب ٹیکنالوجی کے تجربات کررہی ہے۔راج ناتھ سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ بھارت میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں مصروف ہے لہٰذا پاک بھارت سرحد کے اطراف کے علاقوں کی انتظام کاری ایک چیلنج بن چکی ہے لیکن جو سانپ پالتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ انہیں بھی ڈس سکتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اگر ’پاکستان کی نیت صاف رہے تو بھارت آزاد کشمیر سمیت پاکستان میں انسداد دہشت گردی مہم شروع کرنے میں تعاون کرسکتا ہے، اگر پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ ہماری مدد لے سکتا ہے تو ہم مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے عزائم واضح نہیں‘۔راج ناتھ سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے بلکہ ایک ایسی سوچ کو بھی پروان چڑھاتا ہے جو چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی جائز ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…