بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

مسلمانوں کا سجدہ شکر ‘یورپی عدالت کا حق میں فیصلہ

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

پیرس(آئی این پی) فرانس کی اعلیٰ عدالت نے ساحلی قصبے ویلینیو لوبٹ میں مسلم خواتین کے برقینی پہننے پر عائد پابندی معطل کردی۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق فرانسیسی کورٹ نے برقینی پر عائد پابندی اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پابندی نہ صرف واضح اور غیرقانونی طور پر آزادی کے ساتھ گھومنے پھرنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ فرد واحد کی آزادی سمیت عقائد کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد وہ تمام مقامات جہاں برقینی پر پابندی ہے ممکنہ طور پر اٹھائی جاسکتی ہے تاہم کورسیکا کے مئیر نے اپنے شہر میں برقینی پر پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب جن لوگوں پر برقینی پہننے کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا گیا ہے وہ اپنی رقم واپس لے سکتے ہیں جب کہ عدالت پابندی کے قانونی پہلؤوں کے حوالے سے اپنا مکمل فیصلہ بعد میں سنائے گی۔واضح رہے کہ فرانسیسی حکام نے فرانس کے بعض ساحلی علاقوں میں برقینی پہنے پر پابندی لگادی تھی اور وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ یہ سیکیولرزم کے قانون کے منافی ہے۔ برقینی پہنے پر پابندی کا تنازع اس وقت سامنے آیا جب فرانسیسی شہر نیس کے ساحل پر پولیس نے ایک خاتون سے برقینی اتروائی جس کے بعد لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔کینیڈین وزیراعظم اور لندن کے میئر نے مسلم خواتین کے برقینی پہننے پرعائد پابندی کی مخالفت کی تھی جبکہ میڈیا میں بھی اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔انسانی حقوق کے دو گروپوں کے وکلاء کی طرف سے بْرقینی پر عائد پابندی کے خلاف اس اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ ان وکلاء کا کہنا تھا کہ برقینی پر پابندی عائد کرنے سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اس معاملے میں متعلقہ مئیرز نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…