بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

پاک چین دوستی زندہ باد‘ چین کا پاکستان سے ایک اور بڑا معاہدہ‘ دشمن کی صفوں میں ہلچل مچ گئی

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

سلام آباد (این این آئی)پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاء اﷲ نے کہا ہے کہ معاہدہ کے مطابق چین پاکستان کو 8 سب میرینز فراہم کرے گا، چین میں تیار ہونے والی 4 سب میرینز 2022-23ء میں پاکستان کے حوالہ کی جائیں گی۔ وہ جمعہ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دے رہے تھے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین روحیل اصغر کی زیر صدارت نیول ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا جس میں پاک بحریہ کے سربراہ سمیت بحریہ کے دیگر حکام اور کمیٹی کے ممبران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی طاہر بشیر چیمہ، اسفند یار بھنڈرا، میر دوستان، ثریا اصغر، سردار محمد شفقت حیات خان، لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام رسول ساہی، سعید احمد خان منہیس، محمد جنید انور چوہدری، نواب علی وسان، سیّد مصطفی محمود، ملک محمد عامر ڈوگر، سنجے پروانی اور محمد اعجاز الحق بھی شریک ہوئے۔پاک بحریہ کے سربراہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا نیول ہیڈ کوارٹر دورہ پر خیرمقدم کیا۔ کمیٹی کو چین کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی سب میرینز معاہدہ کے حوالہ سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چین نے پاکستان کو 8 سب میرینز دیئے جانے کا معاہدہ ہوا ہے جس کے مطابق 4 سب میرینز چین میں تیار ہوں گی جن کی تکمیل 2022-23ء میں ہو گی جبکہ باقی 4 سب میرینز کراچی شپ یارڈ میں 2028ء تک تیار ہوں گی۔ قائمہ کمیٹی دفاع نے پاک بحریہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اس معاہدہ کی تکمیل پاکستان کی ساحلی سیکورٹی مزید مؤثر اور فعال ہو سکے گی۔ کمیٹی نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی تعمیرات کے آغاز سے پاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سی پیک منصوبہ کے حوالہ سے پاک بحریہ کو جو بھی درکار فنڈز ہیں وہ فی الفور فراہم کئے جائیں تاکہ سیکورٹی کے حوالہ سے درپیش چیلنجز سے احسن انداز سے نمٹا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…