جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک میں عوام نے بغاوت کردی،پارلیمان کی عمارتوں میں داخل،سیکورٹی فورسزکاکارروائی سے گریز

datetime 1  مئی‬‮  2016 |

بغداد(نیوزڈیسک)عراقی وزیراعظم نے گرین زون کے گرد سخت سکیورٹی حصار کو توڑنے والے مظاہرین کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ، ہزاروں مظاہرین پارلیمان کی عمارت پردھاوا بولتے ہوئے اہم حکومتی عمارتوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔عراقی شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی نئی کابینہ کی تشکیل پر تعطل کے خلاف ہفتے کی رات ہی بغداد میں پارلیمان کی عمارت کی طرف جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئی کابینہ میں تمام نسلی اورمذہبی اکائیوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے۔ طاقتور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے ان مظاہرین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔بغداد میں اس تازہ پیش رفت کے نتیجے میں ہنگامی صورت حال کا نفاذ کر دیا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔العبادی نے کہا کہ پارلیمان کی عمارت کے باہر دھرنا دینے والے اور گرین زون میں داخل ہونے والے مظاہرین فوری طور پر واپس چلے جائیں،العبادی نے وزارت داخلہ سے کہا کہ وہ ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے، جنہوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے اور حکومتی عمارتوں میں لوٹ مار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اتوار کے دن بھی سینکڑوں مظاہرین بغداد کی سڑکوں پر جمع ہوئے۔اتوار کے دن مظاہرین اہم حکومتی دفاتر کے گرد کھڑی بڑی بڑی کنکریٹ کی دیواروں کو بھی گرا دیا۔ تاہم بغداد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین کے اہم سکیورٹی زون میں داخل ہونے کے بعد بھی صورت حال کشیدہ نہیں ہوئی ۔یہ مظاہرین اہم حکومتی عمارتوں کے گرد گھومتے ہوئے موبائل فونز اپنی تصویریں بناتے رہے اور تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا ۔انہی مظاہرین میں شامل بتیس سالہ یوسف الاسدی نے بتایا کہ وہ صدام حسین کے دور میں اس ہائی سکیورٹی زون میں اس وقت آیا تھا، جب وہ اسکول میں پڑھتا تھا۔ اسدی کے بقول اس کے بعد پہلی مرتبہ اسے موقع ملا ہے کہ وہ اس حساس مقام تک پہنچ سکے۔ اس نے مزید کہا کہ بغداد بھر میں یہ سب سے زیادہ خوبصورت علاقہ ہے۔ یہاں سب کو آنے کی اجازت ہونا چاہیے۔وزیر اعظم العبادی کی طرف سے احکامات جاری کیے جانے کے باوجود سکیورٹی فورسز ایسے مظاہرین کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہیں، جو اس وقت گرین زون میں موجود ہیں مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اصلاحات کو ممکن بنایا جائے، جس کے تحت شیعہ، کرد اورسنی گروہوں کو حکومت میں برابر کی نمائندگی حاصل ہو سکے۔مبصرین کا کہنا تھا کہ العبادی کو ملک میں قیام امن کی خاطر تمام گروپوں کو نمائندگی دینا ہو گی۔ کہا جاتا ہے کہ اصلاحات کے نہ ہونے کے نتیجے میں عراق میں بدعنوانی، اقربا پروری اور نسلی تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ پارلیمان کے عمارت کے باہر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…