الریاض(نیوزڈیسک)لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضنفر آبادی کی اس سال حج کے موقع پر موجودگی کی اطلاعات سے نئی بحث چھڑ گئی ہے اور سعودی حکام کا کہناہے کہ غضنفرآبادی کا نام اس سال حج کے لئے مملکت آنے والے افراد کی فہرست میں نہیں ملا۔اگر ان کی حاجیوں کے ہمراہ موجودگی کی تصدیق ہو گئی تو امکانی طور پر سفیر کسی نامعلوم طریقے سے مملکت آئے ہوں اسی وجہ سے ان کا نام حجاج کی آمد کی لسٹ میں شامل نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا اسی صورت ممکن تھا جب ان کے پاسپورٹ پر مملکت داخلے کی مہر لگی ہوتی۔لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی کی منیٰ میں ہونے والی بھگڈر میں لاپتا ہونے سے متعلق متضاد خبریں آ رہی ہیں، ایک اطلاع کے مطابق وہ بھگڈر میں زخمی ہوئے جبکہ دوسری خبر کے مطابق وہ منیٰ واقعہ کے بعد سے لاپتا ہیں۔یاد رہے کہ عیدالاضحی کے پہلے دن منیٰ کے مقام پر بھگڈر مچنے سے 750 سے زائد حاجی شہید ہوئے۔تہران میں سرکاری حکام اور سفیر کے اہل خانہ اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ غضنفر آبادی ایرانی حاجیوں کے دستے میں شامل تھے۔لاپتا سفیر کے بھائی مرتضی آبادی نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی شام سے ہم اپنے بھائی سے رابطے کی کوشش میں ہیں لیکن ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ حادثے کے بعد سے ہم ان کے ٹیلی فون نمبر پر مسلسل رابطہ کر رہے ہیں، لیکن کوئی جواب نہیں ملتا۔اس کے برعکس ایران کے ایک اہم اسٹرٹیجسٹ امیر موسوی نے ایک خبر رساں کو بتایا کہ غضنفر رکن آبادی کے منی بھگڈر میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غضنفر آبادی کو معمولی زخم آئے۔مسٹر موسوی نے بتایا کہ غضنفر آبادی کی تہران میں موجود اہلیہ اور مکہ مکرمہ میں موجود بھائی نے تصدیق کی ہے کہ سفیر محترم خیریت سے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں پریشانی کی بات نہیں۔ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے سابق سفارتکار کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔غضنفر رکن آبادی 2010-2014 کی مدت میں چار برس تک تہران کے سفیر رہے۔ نیز انہوں نے لبنان میں قومی اتفاق رائے کی حکومت بنوانے کے لئے ملک کی سرگرم سیاسی جماعتوں کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔ وہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ اپنے باوثوق تعلقات کی وجہ سے مشہور تھے۔ وہ 2013ءکو بیروت میں ایرانی سفارتخانے میں دوہرے خودکش حملے میں بال بال بچے تھے۔
لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضنفر آبادی کی حج کے موقع پر موجودگی کی اطلاعات سے نئی بحث چھڑ گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے
-
بینک سے سونا غائب کرنے اور 5 کروڑ کے فراڈ کے الزام میں بینک کیشئر سمیت 2 افراد گرفتار
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
اس سسٹم میں تم نے 30 سال کا سفر ساڑھے 3 سال میں طے کیا، اب تمہیں آکر پتہ چلا سسٹم بالکل خراب ہے: ران...



















































