اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

نیتن یاھو کا امریکی وزیر کے ساتھ نیوز کانفرنس سے انکار

datetime 22  جولائی  2015 |

یروشلم (نیوزڈیسک )ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگروام پر طے پائے معاہدے پر سیخ پا اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے دورے پر آئے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے انکار کر دیا۔العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہ نمائوں کے درمیان منگل کو مغربی یروشلم میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات کے بعد سفارتی پروٹوکول کے تحت دونوں رہ نمائوں کو ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرنا تھا تاہم نیتن یاھو نے عین آخری وقت میں پریس کانفرنس سے انکار کر دیا۔مقبوضہ بیت المقدس میں “العربیہ” کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سفارتی پروٹوکول کے تحت اسرائیلی وزیر اعظم کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ملاقات کے بعد مہمان امریکی وزیر دفاع کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے تاہم وہ ایسا کرنے کے کلی طور پر پابند نہیں تھے۔ نیتن یاھو کی جانب سے پریس کانفرنس سے انکار نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ بات چیت سے انکار کرکے عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی راہ پر چل رہے ہیں۔منگل کو امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ایشٹن نے صحافیوں کو بتایا کہ نیتن یاھو بوجوہ مشترکہ پریس کانفرنس کے حامی نہیں ہیں۔ مبصرین کے خیال میں نیتن یاھو نے ایشٹن کارٹر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے انکار کرکے ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور واشنگٹن کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ایران سے سمجھوتے کے حوالے سے اس کی تسلیوں پر تل ابیب کو اطمینان نہیں ہے۔یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر اسرائیل آئے ہی اس لیے تھے تاکہ وہ تل ابیب کو تہران کیساتھ عالمی طاقتوں کے سمجھوتے پر قائل کر سکیں تاہم بہ ظاہر لگ رہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ نیتن یاھو، ایران سے ڈیل کی مخالفت کے اپنے موقف پر بدستور قائم ہیں اور وہ حوالے سے امریکا سے مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا میں بھی اب معرکہ کانگریس میں پہنچ گیا ہے۔ کانگریس ایران سے ڈیل کی توثیق کرے گی یا نہیں اس کے بارے میں فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔تجزیہ نگار “اوری ڈرومی” کا کہنا ہے کہ “تل ابیب کو امریکی انتظامیہ سے اب زیادہ امید نہیں رہی۔ ایران سے ڈیل کے حوالے سے تل ابیب کی نظریں اب کانگریس پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر کانگریس بھی ایران سے سمجھوتے کی توثیق کر دیتی ہے تو وائیٹ ہائوس اور تل ابیب میں اختلافات مزید گہرے ہو جائیں گے”۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ نیتن یاھو کا احتجاج اپنی جگہ اہم مگر وہ یہ بھی سمجھ چکے ہیں اب وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔نیتن یاھو یہ سمجھتے ہیں کہ اگرامریکا کی غیرمعمولی عسکری پشکشوں کو قبول کر لیتے ہیں تو وہ کانگریس میں ایران کے خلاف اپنا مقدمہ مضبوطی نہیں سے لڑ سکیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…