جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

افغانستان: ’امریکی حملے میں 14 افغان فوجی ہلاک

datetime 20  جولائی  2015 |

افغانستان (نیوزڈیسک) افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ لوگر میں ایک فوجی چوکی پر امریکی ہیلیکاپٹروں کے حملے میں کم از کم  14 افغان فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق پیر کی صبح دو امریکی ہیلی کاپٹروں کے ایک چوکی پر حملہ کیا۔ علاقے میں موجود افغان فوج کے کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ چوکی پر افغان پرچم واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔ واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں ابھی جاری ہیں۔ ادھر امریکی موقف ہے کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ اب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ حملہ امریکی ہیلی کاپٹروں نے ہی کیا تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور ہیلی کاپٹر امریکیوں کے ہی تھے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق لوگر صوبہ زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے اور طالبان یہاں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ افغانستان میں اس وقت دس ہزار غیر ملکی فوجی تعینات ہیں جو کہ جن کی مرکزی ذمہ داری افغان فوجیوں کی تربیت ہے۔ نیٹو کا مشن مکمل ہونے کے بعد اب غیر ملکی فوجی جنگی کارروائیوں میں محدود حد تک ہی ملوث ہیں۔ امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج کے افغانستان حملے کے بعد سے فرینڈلی فائر میں عام شہریوں اور افغان فوجیوں کی ہلاکتیں کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات کے خلاف نہ صرف عوام میں غصے پایا جاتا ہے بلکہ افغان حکومت بھی متعدد بار اس پر احتجاج کر چکی ہے اور سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں ایسے حملوں کے بعد افغانستان کے امریکہ سے تعلقات کشیدہ بھی ہو گئے تھے۔ پیر کا واقعہ موسمِ گرما میں طالبان حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد جوابی کارروائی کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ گذشتہ ہفتے افغان طالبان تحریک کے امیر ملا محمد عمر نے عید الفطر کے موقع پر ایک پیغام میں ’افغانستان میں امن کے لیے بات چیت کرنا جائز‘ قرار دیا تاہم انھوں نے اس سے قبل پاکستان میں افغان حکومت اور طالبان رہنماؤں کے مذاکرات کا براہ راست کوئی ذکر نہیں کیا۔ ملا محمد عمر کا کہنا تھا کہ بات چیت کا مقصد افغانستان پر ’قبضے کو ختم کرنا‘ ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…