جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پاک فوج کیخلاف پھربولنا”بھائی“ کو مہنگا پڑ گیا،سکاٹ لینڈ یارڈ حرکت میں

datetime 14  جولائی  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین شدید مشکلات میں گھِر گئے ہیں کیونکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی سیاستدان سے ان کی لندن سے پاکستان مبینہ نفرت انگیز تقاریر پر ایک بار پھرتحقیقات کی جارہی ہے، معروف صحافی مرتضی علی شاہ نے ایک نجی ٹی کے پروگرام میں انکشاف کیاہے کہ ایم کیو ایم کے قائد سے رواں سال 11مارچ کو ان کے متنازع ریمارکس پر تحقیقات کی جارہی ہے، الطاف حسین نے اس دن کہا تھا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مارنے والے ماضی کی چیزبن گئے اکثر نے ان ریمارکس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان کو چھپی ہوئی دھمکی قرار دیا،اسپیشلٹ کرائم اینڈ آپریشزیونٹ کے ذریعہ نے بتایا کہ اس سال 11مارچ کو ایم کیو ایم سے منسلک ایک شخص کے ریمارکس پاکستان میں نشر ہوئے تھے،ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم اس شخص کا نام نہیں لیں گے،ہم تحقیقات کررہے ہیں تاہم رپورٹر کو علم ہے کہ یہ الطاف حسین کے سوا کوئی اور نہیں،مزید انکشاف کیا جاسکتا ہے کہ لندن پولیس الطاف حسین کی30اپریل کی تقریر کی بھی تحقیقات کررہی ہے جس میں انہوں نے رینجرز آپریشن کے خلاف بات کی تھی اور اپنے کارکنوں کو کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑے تو مسلح تربیت حاصل کی جائے،ذریعہ کا کہنا ہے کہ یہ دو اور کم از کم تین مزید تقاریر کا اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران جائزہ لے رہے ہیں جن میں نفرت انگیز مواد ہو،میٹرو پولیٹن پولیس میں یہ معاملہ انتہائی اعلیٰ سطح پر دیکھا جارہا ہے اور تحقیقات جب مکمل ہوجائیگی تو معاملہ پر اسیکیوشن سروس کو بھیج دیا جائیگا۔ہم جرائم کے ہر الزام کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ایکشن لیں گے۔ حالیہ تحقیقات پہلی تقریر کی تحقیقات کے دو برس بعد ہورہی ہے،الطاف حسین کی عام انتخابات میں تقاریر خصوصاً تین تلوار کلفٹن والی تقریر کے بعد مئی2013میں ارکان پارلیمنٹ کو سیکڑوں کی تعداد میں موصول ہوئی تھیں پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپیشلٹ کرائم اینڈ آپریشنز افسران نے مواد جمع کرنے اور نشان دہی کیلئے تفتیش کی ہے، ان سب کے ترجمے کی ضرورت ہے،پولیس ترجمان نے ریکارڈ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کرائون پر اسیکیوشن سروس کے ساتھ قریبی مشاورت اور محتاط جائز کے بعد تحقیقات ختم کردی تھی، پولیس نے تب اس لئے ختم کردی تھی کہ ریمارکس برادری کے چند افراد کے خلاف ہوسکتے تھے، اس سے فوجداری جرم نہیں بنتا،اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اپنی پہلی تحقیقات کرائون پر اسیکیوش سروس کے اس موقف کے بعد جون2014میں ختم کردی تھی کہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے مناسب شواد موجود نہیں ہیں چنانچہ کیس پر مزید کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…