سبق آموز اور قابل تقلید واقعہ کینسر کے شکار استاد بسترعلالت سے طلبا کو پڑھانے لگے

  بدھ‬‮ 16 ستمبر‬‮ 2020  |  17:13

ریاض (این این آئی )سعودی عرب میں اپنے طلبا کو زیور علم سے آراستہ کرنے کے جذبے سے سرشار کینسر کا شکار ایک استاد کا سبق آموز اور قابل تقلید واقعہ سامنے آیا ہے جو چار ماہ سے خود اسپتال میں بستر علالت پر ہونے کے باوجود اپنی تکلیف کو بھلا کر بچوں کی تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے ابو عمر الدانی پرائمری اسکول کےمعلم محمد الفیفی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ چار ماہ سے وہ اپنے کینسر کیمیائی تابکاری علاج کیلیے اسپتال میں داخل ہیں۔ جب سے سعودی


عرب میں سیشن کروا رہے ہیں لیکن وہ اپنے طلبا سے ریاض کے ایک اسپتال میں اپنے کمرے سے گفتگو کرتے اور ان کی تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔اساد محمد الفیفی نے کہا کہ میں ریاض کے ابی عمرو ال دانی پرائمری اسکول میں عربی زبان کی تعلیم دیتا ہوں۔انہوں نے اسپتال کے کمرہ علاج سے بچوں کی تدریس کے عمل کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں انہیں بچوں کو فاصلاتی طریقے سے تعلیم دیتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ استاد الفیفی پرائمری اسکول میں شعبہ عربی کے استاد ہیں۔الفیفی نے مزید کہا کہ مجھے گذشتہ رمضان میں گردوں میں تکلیف ہوئی جس پر میں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ چیک اپ کے بعد پتا چلاکہ میں کینسر کا شکار ہوں اور میں نے وہاں سے فورا ہی اپنا علاج کرانا شروع کر دیا۔تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے الفیفی نے کہا کہ میں اپنے پیشہ سے پرجوش ہوں اور تعلیم میں نئی پیشرفتوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ طلبا میری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ میں ان کی تعلیم اور تربیت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎