بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

مصر کی قدیمی عدالت ’بشع‘ جہاں فیصلہ آگ کرتی ہے

datetime 19  دسمبر‬‮  2018 |

قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کے قبائلی علاقے اسماعیلیہ میں سچ اور جھوٹ کا فیصلہ قدیمی عدالت بشع میں آگ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افریقی ملک مصر کے شمال مشرقی حصّے اسماعیلیہ میں ایک بدو نامی ایسا قبیلہ آباد جو اپنے معاملات جدجد نظام انصاف (موجودہ عدلیہ) کے پاس لے جانے کے بجائے دنیا کے قدیم نظام انصاف سے رجوع کرتا ہے۔ بدوؤں کے نظام انصاف

میں بشع ایک روائتی عدالت ہے جہاں آگ کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے، ملزم سلگتے ہوئے لوہے کو تین مرتبہ چاٹتا ہے اس کے بعد جج ملزم کی زبان کا معاینہ کرتا ہے اور زبان نہ جلنے پر ملزم کو بے قصور قرار دیا جاتا ہے جس کے بعد ملزم کو دوسرے فریق کے ساتھ صلح کرنی ہوتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بشع کا جج ہی جرمانے کا مجاز ہوتا ہے اور اس کا فیصلہ کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون سلگتے ہوئے لوہے کو چاٹ رہی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون کے شوہر نے اس پر دو سو ڈالر کی چوری کا الزام عائد کیا تھا، جس نے دھکتے ہوئے چمچے کو زبان سے چاٹا اور زبان نہ جلنے پر جج نے اسے بے گناہ قرار دیا۔ اویمپیئر عمیر عیاد بشع کے جج ہیں، انہوں نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس روایت کی ذمہ داری گذشتہ ڈھائی سو یا تین سو برسوں سے ان کے پاس ہے، عمیر کی چودہ پشتیں یہ ذمہ داری انجام دے چکی ہیں۔ اویمپیئر عمیر عیاد کو یقین ہے کہ وہ اپنی برادری کےلیے اہم ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بزرگوں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر یہ ذمہ داری انہیں سونپی تھی۔ اویمپیئر عمیر عیاد کا کہنا تھا کہ میں یہ کام کرتا رہوں گا، میں بے ایمانی نہیں کرسکتا، انصاف کا تقاضا کرنے والوں کےمطالبات ہوتے ہیں، مجھے بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ بشع کے نائب جج حمید عمیر کہتے ہیں کہ مصری لوگوں کو یقین ہے کہ یہ سچائی کا راستہ ہے، یہ جھوٹوں اور سچوں کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ پولیس کے بجائے ہمارے پاس آتے ہیں، پولیس سچ کی تلاش میں کئی ماہ لگاتی ہیں لیکن ہم سچ اور جھوٹ فوری فرق بتا دیتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دوسری جانب مصر میں ہی بشع کو فراڈ بھی قرار دیا جاتا ہے اور اس کی پریکٹس قابل جرم سزا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…