پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

8 کھرب روپے واشنگ مشینوں میں دھل کر ضائع

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

کینبرا (سی پی پی )آسٹریلیا میں 8کھرب 4 ارب روپے مالیت کے کرنسی نوٹ واشنگ مشینوں میں دھل کر ضائع ہو چکے ہیں۔کرنسی نوٹ ضائع ہونے سے زیر گردش نوٹوں کی مجموعی تعدادمیں دس فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔آسٹریلیا میں ہر شہری اوسطاً 34 ہزار روپے ((340 ڈالر مالیت تک کے کرنسی نوٹ کسی نہ کسی طرح کھو چکا ہے، ان میں پانچ اور دس ڈالر کے کرنسی نوٹوں کی اکثریت ہے۔

آسٹریلوی اخبار کے مطابق واشنگ مشینوں کی دھلائی اور صوفوں کی پشت شہریوں کو غریب کررہی ہے، آسٹریلیا میں 8 ارب ڈالر مالیت کے کرنسی نوٹ واشنگ مشینوں یا دیگر وجوہات کے باعث کرضائع ہو گئے۔ریزرو بینک کی خصوصی تحقیق کے مطابق پانچ اور دس ڈالر کے ہر دس میں سے ایک نوٹ ضائع ہو جاتا ہے جس کی بڑی وجہ واشنگ مشین میں دھل کر نوٹ خراب ہونا ہے، اس کے علاوہ صوفوں کی پشت پربھی کرنسی نوٹ گر کر خراب ہو جاتے ہیں ۔تحقیق کے مطابق آسٹریلیا میں ہر شہری اوسطاً 340 ڈالر مالیت کے نوٹ مختلف وجوہات کے باعث کھو دیتا ہے، ان میں زیادہ تر پانچ اور دس ڈالر کے کرنسی نوٹ ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ لوگ اپنی روزمرہ خریداری کے لئے کارڈ کے استعمال اور ڈیجیٹل سسٹم پر جارہے ہیں ، اس کے باوجود آسٹریلوی معیشت میں اب بھی 76 ارب ڈالر کے نوٹ زیر گردش ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 15 سے 35 فیصد نوٹوں کا استعمال روزمرہ کے سازوسامان اور خدمات کے عوض ہوتا ہے جب کہ 65فی صد نوٹ دیگر ذرائع میں استعمال ہوتے ہیں۔کرنسی نوٹوں کی10 سے 20 فی صد تعداد لوگ اپنے پاس جمع رکھتے ہیں ،15 فیصد کرنسی نوٹ بیرون ملک بھیج دیئے جاتے ہیں۔ چار سے آٹھ ارب ڈالر جو تقریباً” پانچ سے دس فیصد بنتے ہیں، وہ مختلف وجوہات سے ضائع ہوجاتے ہیں۔تحقیق کے مطابق عوام پچاس اور سو ڈالر کے نوٹوں کے بارے محتاط رویہ رکھتے ہیں اس لیے یہ ضائع نہیں ہوتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…