پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

کیلیفورنیا کی وہ ڈونٹ شاپ،جو صبح سویرے خالی ہوجاتی ہے!

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کیلیفورنیا(مانیٹرنگ ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ اس دنیا سے اچھائی کا خاتمہ ہوگیا ہے، لیکن اب بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جن کی وجہ سے یقین ہونے لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سیل بیچ میں ایک ڈونٹس کی دکان ایسی بھی ہے،جہاں گاہک صبح سویرے آکر تمام اشیاء خرید لیتے ہیں، تاکہ دکان کا مالک سکون سے جاکر اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کرسکے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق جون چھان اور ان کی اہلیہ اسٹیلا سیل بیچ میں گذشتہ 30 سال سے ڈونٹس فروخت کر رہے ہیں۔ لیکن گزشتہ ماہ اسٹیلا، دماغی بیماری ‘برین اینیوریزم’ (brain aneurysm) کا شکار ہوگئیں، جن کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ کاروبار کی ذمہ داری بھی اکیلے جون کے کاندھوں پر آن پڑی۔ سی این این کے مطابق جون کی اہلیہ اس وقت نرسنگ ہوم میں ہیں، جن کی دیکھ بھال ان کی بیوی کی بہن کر رہی ہیں، لیکن وہ خود بھی زیادہ وقت اسٹیلا کے ساتھ گزارنے کے خواہشمند ہیں۔ تاہم جون کے مستقل گاہکوں کو جیسے ہی اہلیہ کی بیماری کا معلوم ہوا، انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اب ہوتا یہ ہے کہ صبح ساڑھے 4 بجے سے گاہک جون کی دکان کے باہر جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور سارے ڈونٹس خرید لیتے ہیں، یہی نہیں بلکہ وہ جون کے ہاتھ کی بنی کافی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب جون کی دکان بالکل خالی ہوتی ہے، لیکن ان کی جیب میں رقم موجود ہوتی ہے اور دل میں گاہکوں کے لیے بے پناہ محبت۔ ایک مستقل گاہک جینے راجرز نے بتایا کہ ‘گزشتہ 20 سال سے ہر اتوار کو وہ یہاں سے ڈونٹس خریدتے ہیں، یہ وہ چیز ہے جو یہاں مستقل موجود ہے، جون بالکل تازہ ڈونٹس بناتے ہیں اور صبح سویرے یہاں موجود ہوتے ہیں’۔ دوسری جانب جون چھان بھی اپنے مستقل گاہکوں کے اس رویے پر بہت ممنون نظر آتے ہیں۔ واقعی اس واقعے سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ انسانیت اور ہمدری کے جذبات اس دنیا سے مکمل طور پر ناپید نہیں ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…